وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیرِ اہتمام بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6407ویں روز بھی جاری رہا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ تنظیم کی طویل، پرامن اور انسانی حقوق پر مبنی جدوجہد کا بنیادی مقصد بلوچستان سمیت ملک بھر میں جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا خاتمہ، تمام لاپتہ افراد کی بازیابی اور ان کے اہلِ خانہ کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومتی سطح پر اس سنگین انسانی اور قانونی مسئلے کے حل کے لیے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے آئین اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں اور عوام میں بے چینی اور عدم تحفظ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگی نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9 کے تحت کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ آرٹیکل 10 کے تحت گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرنا اور اسے 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے، اور اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرکے شفاف عدالتی کارروائی کے ذریعے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے، لاپتہ افراد کی بازیابی اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے فوری، مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ بلوچستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔