پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث کو ریاست انتظامی اصلاحات کا عنوان دے رہی ہے، مگر زمینی حقائق اور ریاست کے ماضی کے طرزِ عمل کو سامنے رکھا جائے تو یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں دکھائی دیتی۔ اس کے برعکس یہ طاقت کے ارتکاز، محکوم اقوام کی سیاسی قوت کو منتشر کرنے اور ریاست پر عسکری و انتظامی گرفت کو مزید مضبوط بنانے کی ایک نئی حکمتِ عملی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کیسے ہوں گے؟
اس منصوبے کے تحت انتظامی ڈھانچے کو اس انداز میں تشکیل دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ حقیقی اختیارات منتخب نمائندوں کے بجائے ریاستی اداروں کے ہاتھ میں رہیں۔ مقامی حکومتیں اگر قائم بھی کی جائیں تو ان کا کردار زیادہ تر نمائشی ہو، جبکہ اصل فیصلہ سازی مرکز کے زیرِ اثر انتظامی ڈھانچے کے ذریعے انجام پائے۔
اس تصور کے مطابق مختلف انتظامی یونٹس کی نگرانی اعلیٰ ریاستی یا عسکری افسران کے ذریعے کی جا سکتی ہے، تاکہ اختلافِ رائے، سیاسی مزاحمت اور قومی تحریکوں کو کنٹرول روکا جا سکے۔
سیاسی جماعتوں کا مستقبل
اگر ریاست اس سمت میں پیش رفت کرتی ہے تو سیاسی جماعتوں کا کردار مزید محدود ہو سکتا ہے۔ طاقت کا مرکز منتخب اداروں کے بجائے غیر منتخب قوتیں بن جائیں گی اور "قومی مفاد” یا "قومی حکومت” جیسے نعروں کے تحت ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں حقیقی سیاسی اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے طاقتور ریاستی اداروں کے پاس ہو۔
اصل مقصد کیا ہے؟
اس منصوبے کے چند بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں۔
اول: محکوم اقوام کے وسائل، حقِ خودارادیت اور قومی شناخت سے متعلق سیاسی تحریکوں کو کمزور کرنا۔ جب کسی بڑی قومی اکائی کو متعدد انتظامی حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تو اس کی اجتماعی سیاسی قوت منتشر ہو جاتی ہے اور ہر خطہ اپنے مقامی انتظامی مفادات تک محدود ہونے لگتا ہے۔
دوم: بلوچستان اس منصوبے کا سب سے اہم ہدف بن سکتا ہے۔ بلوچ قومی تحریک کئی دہائیوں سے آزادی اور قومی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ بلوچ قوم کے اندر موجود لسانی اور علاقائی تنوع کو ماضی میں بھی تقسیم کی سیاست کے لیے استعمال کیا گیا، اور نئے انتظامی یونٹس اسی پالیسی کا تسلسل ہوں گے۔
سوم: سرائیکی صوبے کے حقیقی مطالبے کو پسِ پشت ڈالنا بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اگر پنجاب کی منصفانہ تقسیم عمل میں آتی ہے تو بندوبست پاکستان میں طاقت کا موجودہ توازن تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے پنجاب کی سیاسی بالادستی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامی تقسیم کی بحث تو مسلسل جاری رہتی ہے، مگر سرائیکی عوام کے تاریخی مطالبے پر سنجیدہ پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔
چہارم: سندھ کے وسائل پر مزید کنٹرول حاصل کرنا بھی اس منصوبے کا ایک اہم پہلو ہے۔ دریائے سندھ کے پانی کا رخ سندھی قوم کی مرضی کے برخلاف موڑ کر نئی زرعی زمینیں آباد کرنا ، جبکہ سندھ کے ساحلی جزیروں پر نئی آبادکاری اور وہاں ریاستی اداروں کے معاشی و تزویراتی مفادات کو وسعت دینے کی پالیسی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
ماضی کیا بتاتا ہے؟
پاکستان میں جب بھی فوج نے براہِ راست یا بالواسطہ اقتدار سنبھالا، اس نے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کو اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔
جنرل ایوب خان کے "بنیادی جمہوریت” کے نظام سے لے کر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے مقامی حکومتوں کے ماڈلز تک، ہر دور میں اختیارات کا حقیقی مرکز عوام نہیں بلکہ ریاستی طاقت رہی۔ ان تمام تجربات کے نتیجے میں نہ جمہوریت مستحکم ہو سکی، نہ دیرپا سیاسی استحکام پیدا ہوا، نہ محکوم اقوام کے تحفظات دور ہوئے اور نہ ہی قومی سوال کا کوئی مستقل حل سامنے آیا۔ اس کے برعکس ریاست اور مختلف قومی اکائیوں کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ ہوا اور قومی تحریکیں مزید مضبوط ہوتی گئیں۔
اگر ایک بار پھر انتظامی اصلاحات کے نام پر اختیارات کا مزید ارتکاز کیا گیا تو اس کے نتائج بھی ماضی سے مختلف ہونے کی توقع کم دکھائی دیتی ہے۔
ممکنہ نتائج
اگر یہ منصوبہ نافذ کیا جاتا ہے تو پاکستان کے مختلف حصوں میں سیاسی ردِعمل اور مزاحمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں سیاسی جماعتوں، صحافیوں، طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اختلافی آوازوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی اسی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے، جس کا مقصد ریاستی منصوبوں کے راستے میں موجود سیاسی مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔
آج پاکستان کے مختلف حصوں میں قومی شعور پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ بلوچستان، سندھ، سرائیکی وسیب، پشتون علاقوں، کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت مختلف خطوں میں وسائل، شناخت اور قومی حقوق سے متعلق مباحث پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں اگر انتظامی ڈھانچے میں یکطرفہ تبدیلیاں مسلط کی گئیں تو ان سے سیاسی کشیدگی، ریاست پر عدم اعتماد اور مجموعی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ریاستیں محض طاقت کے بل پر دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح پاکستان کے مسائل کا حل انتظامی نقشوں کی تبدیلی میں نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے اور قومی سوال کے منصفانہ حل میں پوشیدہ ہے۔ اس تناظر میں تاریخی اقوام کی شناخت کو انتظامی تقسیم کے ذریعے کمزور کرنے یا قومی سوال کو ختم کرنے کی کوششیں مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتیں۔
مسئلہ نظام نہیں پاکستان ہے، اگر پاکستان کو ختم کرکے محکوم اقوام کو اپنے تاریخی جغرافیہ میں آزادیاں دی جائیں تو چند ہی سالوں میں اس خطے میں امن اور ترقی ہوگی۔
قوم دوست قوتوں کا ردِعمل کیا ہونا چاہیے؟
میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ قوم دوست قوتوں کو ریاستی جغرافیے، سرکاری نقشوں اور نوآبادیاتی ادوار میں دیے گئے ناموں کو حتمی حقیقت کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنی تاریخی حدود، قومی جغرافیے اور مستند تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر اپنا بیانیہ تشکیل دینا چاہیے۔
بلوچستان کے معاملے میں بلوچ قومی میڈیا، محققین اور قومی تنظیموں کو تاریخی بلوچستان کا ایک مستند قومی نقشہ مرتب کرکے عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے برطانوی دور سے قبل کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے اور تاریخی دستاویزات سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے جو بلوچستان کی تاریخی جغرافیائی حدود کے اہم شواہد فراہم کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں The Country of Baluchistan جیسی تاریخی تصانیف بھی بلوچستان کے جغرافیے، آبادی اور تاریخی حدود کے مطالعے کے لیے اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
قوم دوست سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ سرکاری نقشوں کے مقابلے میں اپنے قومی نقشے، تاریخی حدود اور جغرافیائی تصور کو علمی، تحقیقی اور سیاسی انداز میں عوام کے سامنے پیش کریں، ذرائع ابلاغ میں اس کی وضاحت کریں اور قومی شعور کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مربوط فکری مہم چلائیں۔
بلوچ قومی جدوجہد جاری ہے اور بلوچ قوم اپنے تاریخی وطن کی حدود سے ایک انچ بھی کمتر کسی تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ قومی جغرافیے، تاریخی شناخت اور حقِ خودارادیت کا تحفظ محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ قومی بقا کا بنیادی تقاضا ہے۔
***