ہنہ اوڑک واقعہ کی اصل حقیقت اور ریاستی پروپیگنڈا

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

تحریر: جعفر قمبرانی

بلوچستان کی مزاحمتی تاریخ میں ‘آپریشن ہیروف’ کا ایک بہت بڑا اور تاریخی کردار ہے، جسے صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ تاریخی معرکہ تھا جب گولیوں کی گونج کے باعث کوئٹہ کینٹ سمیت تمام کیمپوں سے پاکستانی جرنیل اپنے نجی جیٹس اور طیاروں میں اسلام آباد کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوئے اور پوری دنیا یہ منظر دیکھتی رہ گئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی اداروں کو اب بھی اسی نوعیت کے کسی بڑے حملے کا خوف لاحق ہے، جس کی بنا پر وہ پورے کوئٹہ شہر کو چھاؤنی اور کینٹ میں تبدیل کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔ اس جارحانہ عمل کا آغاز اب ہنہ اوڑک پر قبضے اور اس کی تباہی سے کیا جا رہا ہے، جو کہ عین کوئٹہ کینٹ کے عقب میں، پہاڑی چوٹیوں کے اس پار واقع ہے۔

یاد رہے کہ ہنہ اوڑک کوئٹہ شہر سے مشرق کی جانب واقع ایک انتہائی خوبصورت وادی ہے۔ یہ علاقہ ہنہ اوڑک روڈ کے راستے، مشہور ہنہ جھیل کے قریب سے شروع ہوتا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وادی کوئٹہ شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور کوئٹہ کینٹ کے پچھلے حصے میں، مشرقی چوٹیوں اور پہاڑی راستوں کے بالکل اس پار موجود ہے۔ چونکہ اوڑک ویلی کوئٹہ کے مشرق میں ہے، اس لیے وہاں پہنچنے کے لیے سڑک بلند و بالا پہاڑی سلسلوں اور نشیب و فراز والے علاقوں سے گزرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہنہ اوڑک کی یہ سنسان جیو اسٹریٹجک پوزیشن، پہاڑی چوٹیوں کا نیٹ ورک اور وہاں مقامی عام شہریوں کی موجودگی، پاکستان کے آئین، پارلیمنٹ، سینیٹ اور عدلیہ پر قابض عسکری قوتوں اور کوئٹہ کینٹ کے لیے ایک مستقل دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ عسکری حکام کو یہ خوف ہے کہ اگر ہنہ اوڑک جیسا اہم جغرافیائی علاقہ ان کے مکمل کنٹرول میں نہ رہا، تو آزادی پسند قوتیں مقامی شہریوں کی مدد سے (جو کہ آزادی پسندوں کے سچے ہمدرد ہیں) ان پہاڑی چوٹیوں کو آسانی سے عبور کر کے کینٹ پر حاوی ہو سکتی ہیں۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر، کوئٹہ کینٹ میں بیٹھے بریگیڈیئرز، کرنل اور جنرل صاحبان ہنہ اوڑک میں آباد ہزاروں مقامی پشتونوں اور بلوچوں کی زندگیاں اجیرن بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

اس مذموم مقصد کے لیے مقامی عوام کو ‘مذہبی دہشت گردی’ اور ‘محب وطنی’ کا جھانسا دے کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پنجابی استعمار ایک بار پھر اپنی غیر مہذب تاریخ کو دہرا رہا ہے، کیونکہ اس ریاست نے ہمیشہ اپنے جرنیلوں کی جانیں بچانے کے لیے عام اور بے گناہ لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگایا ہے۔ یہ مقتدر حلقے ہمیشہ مذہب اور حب الوطنی کا کارڈ کھیل کر معصوم شہریوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اگر بلوچستان میں کوئی حقیقی دہشت گرد، لٹیرا، دروغ گو اور فراڈی ہے، تو وہ خود یہ ظالم ریاست اور اس کے ادارے ہیں۔

حالیہ ہنہ اوڑک واقعے کے بعد سرکاری سطح پر یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ وہاں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے مسلح افراد نے دھاوا بولا، مقامی قبائل سے تصادم ہوا، جس میں 4 مقامی افراد ہلاک اور درجنوں اغوا ہوئے، اور اب فوج وہاں امن قائم کرنے کے لیے آپریشن کر کے چیک پوسٹیں بنا رہی ہے۔ لیکن اس ڈرامے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ عسکری ادارے اور حکمران سراسر جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہاں موجود مسلح افراد کا تعلق ٹی ٹی پی سے نہیں ہے، بلکہ وہ پاکستانی فوج کی اپنی بنائی ہوئی مسلح کٹھ پتلی ملیشیا (ڈیتھ اسکواڈز) کے کارندے ہیں، جنہیں بلوچستان بھر کے جرائم پیشہ افراد کو ملا کر تیار کیا گیا ہے۔ فوج کے اعلیٰ افسران صرف اس ستراتیژی اور قیمتی اراضی پر قبضہ جمانے اور زمینیں ہڑپنے کے لیے یہ سارا خونریز ڈرامہ رچا رہے ہیں۔ اس واقعے کے پیچھے جہاں بے گناہ پولیس اہلکاروں، غریب عوام اور عام آبادیوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، وہاں اصل مقصد عسکری تسلط قائم کرنا ہے۔

عوام کو اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ہمیں تاریخ کا گہرا مطالعہ کر کے اس غیر فطری اور غیر مہذب پنجابی ریاست کا اصلی چہرہ پہچاننا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مقامی قبائل ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہونے اور آپس میں لڑنے کے بجائے، اپنی دیرینہ بلوچ پشتون روایات کو زندہ کریں۔ ہمیں اس استعمار، قبضہ گیریت اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر اٹھ کھڑا ہونا ہو گا۔

تمام مظلوم طبقات کو مل کر ان ریاستی اداروں کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے اور انہیں ہنہ اوڑک جیسے پرامن اور تزویراتی علاقے میں پیر جمانے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ صرف مزاحمت ہی وہ واحد راستہ ہے جو ان پنجابی کاروباری جرنیلوں کو الٹے پاؤں لوٹنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ یہ مزاحمت اس ریاست کے خلاف ناگزیر ہے جو امریکہ و برطانیہ کے ایما پر وجود میں آئی، جو ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور جس نے افغان بلوچ پرانی تاریخی دوستی میں خلل ڈالا ہے۔ ہمیں اس پنجابی استعمار کے خلاف لڑنا ہو گا جس کی اپنی کوئی تاریخ اور روایت نہیں اور نہ ہی اسے ہماری روایات کا کوئی پاس ہے۔ مزاحمت ہی زندگی ہے، اور یہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کو زندہ اور خودمختار رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔

٭٭٭

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article