کالونیل اسٹیبلشمنٹ تاریخی بے بسی کے دوہرائے پر کھڑی ہے ،عصمت رضا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ (WDF) کی صدر اور عوامی ورکرز پارٹی (AWP) کی ڈپٹی جنرل سیکریٹری عصمت رِضا شاہجہاں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی ایم، بی وائی سی، جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی، اور جی بی ایکشن کمیٹی کی پُرامن قومی مزاحمتی تحریکوں نے پاکستانی فوج کو اس لیے چکرا کر رکھ دیا ہے کہ یہ تحریکیں نوابادیاتی جبر و چیرہ دستوں کے خلاف ہمہ گیر عوامی بغاوت ہیں، اس کے روایتی فوجی طریقوں کی گرفت میں نہیں آ رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بے سروپا الزامات لگا کر عوام میں ان کی جڑیں کاٹنے، اور ریاستی طاقت سے انہیں کچلنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، مگر یہ مزاحمت صرف سڑکوں، جلسوں اور دھرنوں میں نہیں، انسانوں کے شعور کے نہاں خانوں میں پل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سیاسی میدان میں پُرامن عوامی مزاحمت فوج کے لیے ایک ایسی مشکل پیدا کر رہی ہے جسے وہ اپنے روایتی فوجی طریقوں سے حل نہیں کر سکتی۔ یہ کوئی تکنیکی مسئلہ نہیں کہ فوج کینیڈا یا سویڈن سے کوئی نئی ٹیکنالوجی خرید کر، یا استعماری فارمولے سیکھ کر، اسے حل کر لے گی۔ یہ تاریخی بے بسی ہے، جس کا کوئی توڑ نہیں۔

عصمت رضا شاہجہان نے کہا کہ یہ بات پُرامن مزاحمت کو جدوجہد کی سب سے اعلیٰ یا واحد شکل قرار دینے کے لیے نہیں کہی جا رہی۔ جدوجہد کی کوئی ایک ابدی شکل نہیں ہوتی۔ ہر جدوجہد اپنی مخصوص تاریخی حالت، طاقت کے توازن، عوامی تیاری، اور ریاستی جبر کی نوعیت کے اندر اپنی شکل اختیار کرتی ہے۔ کبھی مسلح، کبھی غیر مسلح، کبھی پارلیمانی، تو کبھی غیر پارلیمانی۔ کبھی کھلی عوامی تحریک، کبھی زیرِ زمین تنظیم، کبھی ثقافتی مزاحمت، کبھی قانونی لڑائی، کبھی بائیکاٹ، کبھی دھرنا، کبھی لانگ مارچ، اور کبھی خاموش اجتماعی انکار۔ مسلح جدوجہد کو کچلنا اسٹیبلشمنٹ کے لیے نسبتاً آسان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج مسلح مزاحمت کاروں پر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا الزام لگاتی ہے، انہیں پہاڑوں میں گھیرتی ہے، اور جدید جنگی ٹیکنالوجی سے مار دیتی ہے۔ پارلیمانی جدوجہد کو بھی وہ سیاسی انجینئرنگ، مراعات، دباؤ، لالچ، نااہلیوں اور وفاداریاں بدلوانے کے ذریعے قابو کر لیتی ہے۔ مگر لاکھوں انسانوں کے ذہنوں، یادداشتوں اور اجتماعی شعور کے اندر گھس کر انہیں مارنا آسان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست یہ کوشش بھی بھر پور کر رہی ہے، کہ ذہن سازی کے ذریعے جبری ریاست سازی اور جبری قوم سازی کرے۔ آئی ایس پی آر اس مقصد کے لیے بے بہا رقوم خرچ کر چکا ہے، ترانے، فلمیں، ڈرامے، میڈیا تجزیے، مدرسہ اور تبلیغی نظام، مصنوعی بیانیے، تعلیمی نظام اورنصاب اور نہ جانے کیا کیا مگر جب شعور عوام کے اندر جڑ پکڑ لے، تو اسے میزائل، توپ، بندوق، سیاسی انجینئرنگ، یا پروپیگنڈے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی ہر جبر کرنے والی طاقت کی تاریخی بے بسی ہے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے نو ابادیاتی نظام،ڈکٹیٹر اور استعماری طاقتیں قوموں کے جاگتے شعور کے سامنے آخرکار بے بس ہو جاتی ہیں۔ نوآبادیاتی تسلط کی سب سے خطرناک شکل قوموں پر اجتماعی ذہنی قبضہ اور تسلط قائم کرنا ہے؛ جب قومیں اس ذہنی قید اور تسلط سے آزاد ہونا شروع کر دیں، تو پھر خوف، جھوٹ، طاقت، اور پروپیگنڈا سب اپنی طاقت کھونے لگتے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article