بلوچستان کے علاقے پنجگور سے پاکستانی فورسز نے مزید 2 نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ لاہور سے جبری لاپتہ طالب علم بازیاب ہوگیا۔
ضلع پنجگور سے دو مزید نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے بارے میں اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں ریاستی حمایت مسلح افراد نے مختلف مقامات سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق پنجگور کے تحصیل پروم کے رہائشی 22 سالہ مجاہد ولد حبیب، جو پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور ہیں، 7 جون 2026 کی شب سی پیک روڈ سرسند، پنجگور سے لاپتہ کیے گئے۔
اہلِ خانہ کے مطابق انہیں ڈیتھ اسکواڈز سے وابستہ افراد نے اپنی تحویل میں لیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
دوسرے واقعے میں چتکان، پنجگور کے رہائشی 22 سالہ نبیل رحیم ولد رحیم بخش، جو بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) خضدار کے طالب علم ہیں، 5 جون 2026 کو شام 6 بجے حاجی یاسین مارکیٹ، پنجگور سے لاپتہ کر دیے گئے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں بھی ڈیتھ اسکواڈز کے اہلکاروں نے حراست میں لیا، جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے بعد اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہیں۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مجاہد اور نبیل رحیم کو فوری طور پر منظرِ عام پر لا کر ان کی خیریت کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔
دریں اثنا پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور سے 29 اور 30 مئی کی درمیانی شب جبری لاپتہ ہونے والے طالب علم محراب خالد بازیاب ہو گئے ہیں۔
محراب خالد مئی 2026 کے اواخر میں ایک کارروائی کے دوران اپنے ہاسٹل سے حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ کیے گئے تھے جس کے باعث ان کی جبری گمشدگی سے متعلق تشویش پائی جا رہی تھی۔
محراب خالد کیمرہ مین اور سنیماٹوگرافی سے وابستہ ہیں اور نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان کی گمشدگی کے خلاف طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر آواز بلند کی گئی تھی اور ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
محراب خالد کی گمشدگی کے بعد ان کے اہل خانہ، میڈیا، سوشل میڈیا کارکنوں، سیاسی جماعتوں اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے بھرپور آواز اٹھائی گئی تھی۔
مختلف فورمز پر ان کی گمشدگی کا معاملہ اجاگر کیا گیا اور متعلقہ حکام سے بازیابی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق محراب خالد لاہور کے علاقے مال روڈ سے بازیاب ہوئے ہیں۔
ان کی بازیابی کی خبر سامنے آنے پر اہل خانہ اور دوستوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔