بلیدہ کیچ سے 4 نوجوان جبری لاپتہ، خضدار اور پسنی سے 2 لاپتہ افراد قتل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے انسانی حقوق کے ادارے ’پانک‘ (Paank) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا اور رپورٹس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

کیچ (بلیدہ) سے چار نوجوان جبری لاپتہ:

پانک کے مطابق 3 نومبر 2026 کو کیچ کے علاقے بلیدہ (کورِ پشت بٹ) میں صبح کے وقت فرنٹیر کور (FC) اور ملٹری انٹیلی جنس (MI) نے ایک مشترکہ چھاپے کے دوران چار نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

جن کی شناخت عبدالرحمٰن ولد عبدالواحد (عمر: 17 سال، طالب علم)، مجاہد بلوچ ولد لالا حسن (عمر: 18 سال، طالب علم)، محبوب بلوچ ولد عبدالغفور بستی (عمر: 21 سال، مزدور)اور یونس خالق ولد عبدالخالق (عمر: 20 سال، مزدور) کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔

اہلِ خانہ اور مقامی ذرائع کے مطابق تمام افراد کو علی الصبح ان کے گھروں سے اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

خضدار: الٰہی بخش کی جبری گمشدگی کے بعد گولیوں سے چھلنی لاش برآمد:

پانک نے نال، خضدار سے تعلق رکھنے والے الٰہی بخش ولد رسول بخش کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں ماورائے عدالت قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پیشے کے اعتبار سے مکینک الٰہی بخش کو سیکیورٹی فورسز نے نال بازار سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا۔ چار روز بعد 3 نومبر 2026 کو ان کی گولیوں سے چھلنی لاش نال کے قریب گاؤں استخالی سے برآمد ہوئی۔

پسنی: 17 سالہ طالب علم ریان الفت کا لاپتہ ہونے کے بعد قتل:

پانک نے پسنی (کولانچ) سے 17 سالہ طالب علم ریان الفت کے ماورائے عدالت قتل کا کیس بھی اٹھایا ہے۔ ریان کو 14 اکتوبر 2026 کو ان کے گھر سے ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے لاپتہ کیا تھا۔ 8 دنوں تک لاپتہ رہنے کے بعد 22 اکتوبر 2026 کو ان کی تشدد شدہ اور گولیوں سے چھلنی لاش پسنی کے علاقے کولانچ سے پھینکی ہوئی حالت میں برآمد ہوئی۔ ریان کی کم عمری کے باعث ابھی ان کا قومی شناختی کارڈ (CNIC) بھی نہیں بنا تھا۔

’پانک‘ نے ان واقعات کو بنیادی انسانی حقوق اور حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور تشدد کے بعد قتل کا تسلسل ایک باقاعدہ پیٹرن بن چکا ہے۔ Human Rights Organization نے اقوامِ متحدہ (UN)، اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ آن اینفورسڈ ڈسپیرینسز (WGEID) اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور نسل کشی کا فوری نوٹس لیں اور ان واقعات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔

Share This Article