پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کی جانب سے راولاکوٹ میں 153 روز سے جاری دھرنوں کے خلاف جمعرات کی علی الصبح پاکستانی فوج و دیگر فورسز کی جانب سے کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
جیک کے کارکنان کے مطابق راولاکوٹ کے متیالمرہ بس ٹرمینل اور دیگر دھرنا مقامات کے اطراف سکیورٹی فورسز نے پیش قدمی کی ہے اور بعض مقامات پر فورسز نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔
جیک کے کور ممبر عمر نذیر کے مطابق دھرنوں پر چاروں اطراف سے حملہ کیا گیا اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
عمر نذیر کے مطابق، ’’جنگی حالات ہم پر مسلط کر دیے گئے ہیں اور گزشتہ دو، تین گھنٹوں سے ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔‘‘
مقامی صحافی اجمل شاہین کے مطابق اب تک پانچ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے صبح تقریباً چھ بجے ڈی چوک اور بس ٹرمینل کی جانب پیش قدمی کی۔
اجمل شاہین کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں احتشام، رہائشی چمبا ناڑ، عاطف نور سکنہ چمبا ناڑ، عادل سکنہ منگ موڑ اور احسن طارق سکنہ نانوٹا شامل ہیں، جبکہ ایک ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
ان کے مطابق ایک درجن سے زائد شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بس ٹرمینل کے قریب واقع ایک گھر کی ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ڈرون حملے کے باعث گھر میں آگ لگی ہے۔
مقامی صحافی اجمل شاہین کے مطابق بس ٹرمینل کے اطراف موبائل سروس متاثر ہے، جس کے باعث علاقے میں موجود افراد سے رابطہ کرنے اور صورتِ حال کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق علاقے سے متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور وہاں تک رسائی بھی ممکن نہیں۔
دوسری جانب راولاکوٹ مساجد میں اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ شہری فل فور ڈی چوک دھرنے کا رخ کریں۔
حکومتی سطح پر اب تک راولاکوٹ میں جاری کارروائی، ہلاکتوں، زخمیوں یا ڈرون حملوں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔
راولاکوٹ میں یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جیک کی جانب سے کئی ماہ سے جاری دھرنوں کے باعث پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاسی اور انتظامی صورتِ حال مسلسل کشیدہ ہے۔