بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے نشریاتی ادارے ’’آشوب‘‘ نے اپنی عسکری خواتین یونٹ ’’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن‘‘ (KAAD / کاڈ) کی پاکستانی فوج کے خلاف عسکری کارروائی پر مبنی 6 منٹ 15 سیکنڈ پر مشتمل ایک اہم اور غیر معمولی ویڈیو جاری کر دی ہے۔
ویڈیو میں خواتین سرمچاروں کو پروفیشنل فوجیوں کی طرز پر بھاری و جدید ترین ہتھیاروں کے ساتھ بلیدہ کے علاقے میں پوزیشنیں سنبھالتے، ناکہ بندی کرتے اور فوجی کیمپ پر حملے کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
بی ایل ایف کے مطابق بی ایل ایف کی خواتین عسکری یونٹ ’کاڈ‘ (KAAD) اور ’قربان یونٹ‘ کے سرمچاروں نے 28 اکتوبر کو ایک مشترکہ کارروائی کے دوران بلیدہ کے علاقے الاندور میں قائم پاکستانی فوج کے کیمپ پر نڈرتا کے ساتھ حملہ کیا۔
ویڈیو میں ایک خاتون سرمچار کو بی ایل ایف کا پرچم لہراتے ہوئے گاڑی کے اوپری حصے سے مشین گن سنبھالے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
خواتین سرمچاروں کو راکٹ لانچر اور دیگر جدید بھاری ہتھیاروں کے ساتھ اپنے مرد ساتھی سرمچاروں کے شانہ بشانہ فوجی کیمپ پر فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس مشترکہ کارروائی اور جھڑپوں کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے 7 اہلکار ہلاک ہو گئے۔
ویڈیو کے دوسرے حصے میں ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ کے مقام میناز میں ’کاڈ‘ کی خواتین سرمچاروں کو اپنے چہروں پر بی ایل ایف کے پرچم لپیٹے، علاقے کے تمام مرکزی و ذیلی راستوں کی ناکہ بندی کرتے اور گاڑیوں کی اچانک تلاشی لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خواتین سرمچاروں نے علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھال کر نقل و حرکت کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا۔
میناز میں ناکہ بندی کے دوران ایک جذباتی اور تاریخی منظر دیکھنے میں آیا، جہاں مقامی آبادی، بالخصوص بڑی عمر کی ماؤں اور بہنوں نے آگے بڑھ کر ان خواتین سرمچاروں کو گلے لگایا، ان کے ہاتھ اور ماتھے چومے اور ان کی جرات کو سراہا۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک خاتون سرمچار نے بلوچ خواتین سرمچاروں پر اٹھائے جانے والے سوالات اور منفی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا:
"کہا جاتا ہے کہ بلوچ خواتین اپنے ننگ و ناموس کی پروا کیے بغیر مرد سرمچاروں کے ساتھ رہتی ہیں۔ جب ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ بلوچستان کی آزادی اور قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں، تو یہ مرد ساتھی ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کے ساتھ مکمل محفوظ ہیں۔
آپ لوگوں کی غیرت اور ننگ و ناموس صرف ہماری بندوق اٹھانے پر جاگتی ہے، لیکن جب پاکستانی فوج ہمارے گھروں میں گھس کر ہماری بچیوں اور خواتین کو اٹھا کر غائب کر دیتی ہے، اس وقت کسی کو ننگ و ناموس کا خیال نہیں آتا۔”
انہوں نے بلوچ عوام سے مخاطب ہو کر مزید کہا:
"ہم نے آج یا کل شہید ہو جانا ہے، لیکن اس قومی جنگ کو اب آپ لوگوں کو خود لڑنا ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ اب مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں رہا، اس وطن کو آزاد کرانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔”
سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، بلیدہ میناز کے ان مناظر اور خواتین سرمچاروں کی کھلم کھلا موجودگی و ناکہ بندی نے پاکستانی فوج اور اس کی ریاستی مشینری کو شدید ‘شاک’ سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچستان کے اندرونی علاقوں سے ریاستی رٹ تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور عوامی سطح پر مسلح جدوجہد کو کھلی پذیرائی مل رہی ہے۔