امریکی فوج کے جنوبی ایران پر نئے حملے، معاہدہ اب بھی ممکن ہے،مارکو روبیو

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران پر نئے حملے کیے ہیں، جن میں ایرانی میزائل تنصیبات اور ان کشتیوں کو ہدف بنایا ہے جو بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے ’اپنے دفاع‘ میں کیے گئے اور ان کا مقصد ’اپنے فوجیوں کو ایرانی فوج کی جانب سے لاحق خطرات سے بچانا‘ تھا۔

سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ امریکی فوج ’جنگ بندی کے دوران تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنی افواج کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن تنازع کے خاتمے کا کوئی معاہدہ ’فوری طور پر متوقع نہیں۔‘

ہاکنز نے کہا کہ حملوں کا ہدف بندر عباس کے قریب ایک علاقہ تھا۔ یہ جنوب میں ایک ساحلی شہر ہے اور امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی بحریہ کا ایک اڈا بھی اسی شہر میں ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے اس سے قبل اطلاع دی تھی کہ بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کے بعد مقامی حکام تحقیقات کر رہے تھے۔

ایران نے ابھی تک امریکی حالیہ حملوں پر رد عمل نہیں دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ ان حملوں کا امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے پر کیا اثر پڑے گا۔

دوسری جانب تازہ امریکی حملے کے بعدوزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔

منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے جنوبی ایران پر نئے حملے کیے ہیں اور نازک جنگ بندی مزید غیر مستحکم ہو چکی ہے۔

انڈیا کے سرکاری دورے کے دوران جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا: ’آج قطر میں مذاکرات جاری تھے، دیکھنا ہوگا کہ کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ زیادہ وقت دستاویزات کے متن میں استعمال ہونے والے الفاظ اور اصطلاحات کی درستی پر صرف ہوتا ہے، اس لیے اس میں چند دن لگیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’صدر نے اس کام کو انجام دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وہ یا تو ایک اچھا معاہدہ حاصل کریں گے یا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔‘

آبنائے ہرمز کے کھولے جانے پر زور دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا: ’جو کچھ وہاں ہو رہا ہے، وہ غیر قانونی ہے اور قواعد کے خلاف ہے۔ یہ دنیا کے لیے عدم استحکام کا باعث ہے اور ناقابل قبول ہے۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article