بلوچ وومن فورم نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی مسلسل گرفتاریوں اور ان کے خلاف جاری ریاستی کارروائیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فورم کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران بی وائی سی کے متعدد کارکنوں کو بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں لیا گیا ہے جن میں تنظیم کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں۔ ان گرفتار کارکنوں کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر جیسے نوآبادیاتی قانون کے تحت قید رکھا گیا ہے جو کہ انسانی حقوق اور آئین میں دی گئی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
فورم نے الزام عائد کیا کہ ریاستی ادارے پرامن احتجاج کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے اور بلوچستان میں آزادی اظہار پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
فورم کے مطابق ان گرفتاریوں کا آغاز اس وقت ہوا جب 17 مارچ کو ناصر قمبرانی اور 20 مارچ کو بیبگر بلوچ اور ڈاکٹر حمل بلوچ کو حراست میں لیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف بی وائی سی نے کوئٹہ سریاب روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا جس پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد جن میں ایک کم عمر بھی شامل تھا جاں بحق ہوئے۔ دھرنا 22 مارچ تک جاری رہا جس کے بعد پولیس نے رات گئے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا جن میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور بیبو بلوچ شامل تھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بیبو بلوچ پر حراست کے دوران تشدد کیا گیا اور اسے سنگین دھمکیاں دی گئیں جب کہ دیگر کارکنوں کو بغیر کسی قانونی نوٹس کے مختلف جیلوں میں منتقل کیا گیا۔
فورم نے ان اقدامات کو ریاستی جبر کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ بلوچ عوام کی آواز دبانے اور ان کے حقوق کو پامال کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ گرفتار افراد میں بیبگر بلوچ کے والد، بیبو بلوچ کے والد عبدالغفار قمبرانی اور ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے والد بشیر احمد بلوچ بھی شامل ہیں جنہیں صرف اپنے بچوں کی سرگرمیوں کے سبب نشانہ بنایا گیا۔
بلوچ ویمن فورم نے دعویٰ کیا کہ اب تک دو سو سے زائد افراد کو ایم پی او کے تحت حراست میں لیا جا چکا ہے جن میں سے بیشتر کو بعد ازاں بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر رہا کر دیا گیا لیکن بی وائی سی کی قیادت کو تاحال حراست میں رکھا گیا ہے۔
فورم نے عدلیہ پر الزام لگایا کہ وہ اس معاملے میں بے بسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور مسلسل تاریخ پر تاریخ دے کر مقدمے کو لٹکا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پارلیمانی نمائندے سب ریاستی دباؤ کے تابع ہو چکے ہیں۔
فورم کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، جعلی مقابلوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے پیش نظر فورم نے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جن میں بی وائی سی کے تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی غیر مشروط رہائی، پرامن سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کی ہراسانی کا خاتمہ، جعلی مقابلوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی روک تھام اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث عناصر کا احتساب شامل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ وومن فورم بحیثیت ایک سیاسی اسٹیک ہولڈر بلوچستان میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے اور ریاستی اداروں پر زور دیتی ہے کہ وہ آئین، قانون اور انسانی وقار کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں۔