بھارت کے لوک سبھا میں سیکولر تنظیموں، مسلم جماعتوں اور اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے شدید مخالفت کے باوجود مودی حکومت نے متنازع وقف ترمیمی بل لوک سبھا سے منظور کرا لیا۔
اسے مسلمانوں سے ان کا آئینی حق چھین لینے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
بل پر بحث کے دوران سب کی نگاہیں جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) اور تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) پر لگی تھیں، جن کی بیساکھی کے سہارے ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ لیکن ان دونوں ‘سیکولر’ جماعتوں نے بل پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔
بدھ دیر رات لوک سبھا میں ووٹنگ کے دوران بل کی حمایت میں دو سو اٹھاسی جب کہ مخالفت میں دو سو بتیس ووٹ پڑے۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی ایوان سے غیرحاضر رہے۔ اب اس بل کو ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا، وہاں بھی اس کے منظور ہونے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔
اس بل کی منظوری کو بھارتی مسلمانوں سے ان کا آئینی حق چھین لینے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ حکومت کا مسلمانوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
شاہ نے اپوزیشن جماعتوں پر لوگوں کو "گمراہ کرنے” اور "افواہیں پھیلانے” کا الزام لگاتے ہوئے کہا،”اس ملک کے ہر شہری، خواہ وہ جس مذہب سے بھی تعلق رکھتا ہے، کو نقصان نہیں پہنچے گا۔”
امیت شاہ اور ایوان میں بل پیش کرنے والے اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو دونوں نے دعویٰ کیا کہ بل میں مجوزہ اصلاحات سے غریب مسلمانوں اور خواتین کو فائدہ پہنچے گا۔
بی جے پی کے دیگر اراکین پارلیمان نے بھی اپوزیشن پر اقلیتوں کو خوشامد کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف جائیدادوں کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔
اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے متحدہ طور پر اس بل کی مخالفت کی۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے بل کی کاپی پھاڑتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد مسلمانوں کو ‘دوسرے درجے کا شہری’ بنانا ہے۔
انہوں نے بل کو شریعت، مساجد اور مدارس پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا، "اس بل کا مقصد صرف مسلمانوں کو ذلیل اور رسوا کرنا ہے۔ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا ان کا مقصد ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ خود حکومت نے وقف کی بے شمار جائیدادوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔
سماج وادی پارٹی کی رکن اقراء چودھری نے حکومت کی اس دلیل کو غلط بتایا کہ بل میں وقف بورڈوں میں پہلی مرتبہ مسلم خواتین کو جگہ ملے گی۔ اقراء چودھری کا کہنا تھا، "وقف بورڈوں میں مسلم خواتین کی نمائندگی پہلے سے موجود ہے۔ سابقہ قانون کے مطابق کم از کم دو خواتین اور حسب ضرورت اس سے بھی زیادہ خواتین کی موجودگی کی گنجائش ہے۔”
بل میں وقف کرنے والے کو کم از کم پانچ سال کا ‘عملی مسلمان’ ہونے کا ثبوت دینے سے متعلق شق کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے رکن پارلیمان مولانا محب اللہ ندوی نے کہا کہ وہ خود ایک مسجد کے امام ہیں اس کے باوجود کسی کو ‘عملی مسلمان’ ہونے کی سند نہیں دے سکتے۔
خیال رہے محب اللہ پارلیمان کے سامنے واقع نئی دہلی کی جامع مسجد کے امام ہیں اور پچھلے عام انتخابات میں رامپور سے منتخب ہوئے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے رکن کلیان بنرجی کا کہنا تھا،” وقف جائیدادیں مسلمانوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں اور یہ بل مسلمانوں کے حقوق چھیننے کے مترادف ہے۔”
مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بل کے خلاف تمام دستوری، قانونی اور جمہوری ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔