جنوبی وزیرستان میں2 کسٹم اہلکار،ایک ریڈ کراس کا ڈاکٹر اور چیمبر آف کامرس کا صدر اغوا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان لوئر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسٹم کے دو اہلکاروں سمیت وزیرستان چیمبر آف کامرس کے صدر کو اغوا کر لیا ہے جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

انتظامیہ کے مطابق ایک روز پہلے پاکستان ہلال احمر کے ایک ڈاکٹر کو بھی لوئر وزیرستان سے اغوا کیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق جس وقت اغوا کا واقعہ پیش آیا اس وقت وزیرستان چیمبر آف کامرس کے صدر سیف الرحمان، سپرنٹنڈنٹ کسٹم نثارعباسی اور کسٹم انسپکٹر انگوراڈا میں قائم کسٹم آفس کا دورہ کرکے واپس آ رہے تھے۔

ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر ناصر خان نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ اور پولیس نے اس بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تینوں افراد گزشتہ روز انگور اڈا کے دورے پر گئے تھے اور واپسی پر شولام کے مقام پر انھیں اغوا کر لیا گیا ہے۔

ایک روز پہلے پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سے منسلک ایک ڈاکٹر نعمان کو لوئر وزیرستان کی تحصیل برمل سے اغوا کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر نعمان نے پاکستان ہلال احمر کے زیراہتمام شریف خان بنیادی صحت مرکز میں ایک میڈیکل کیمپ تشکیل دیا تھا۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ مسلح افراد اس مرکز میں داخل ہوئے اور وہاں موجود لوگوں سے فون لیے اور ڈاکٹر نعمان کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے۔

ڈپٹی کمشنر وزیرستان لوئر ناصر خان نے کہا ہے کہ مسلح افراد ڈاکٹر نعمان کو اغوا کرکے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے ہیں اور اس وقت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہے کن لوگوں نے انھیں اغوا کیا ہے اور نا ہی اب تک کسی نے اس کی زمہ داری قبول کی ہے۔

اس علاقے میں مقامی لوگوں کے مطابق کالعدم تنظیم کے چھوٹے چھوٹے گروہ متحرک ہیں ۔ متحدہ سیاسی امن پاسون کے رہنماؤں نے ایک بیان میں اغوا کے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکام سے اپیل کی ہے کہ مغویوں کو دو دن کے اندر بازیاب کرایا جائے بصورت دیگر پھراحتجاج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ ایک ماہ میں دو درجن سے زیادہ افراد کو اغوا کیا جا چکا ہے۔

لکی مروت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ایک منصوبے پر کام کرنے والے ملازمین کو ایک ماہ ہونے کو ہے لیکن اب تک انھیں بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔

گزشتہ روز لکی مروت میں ایک جرگہ میں مقامی رہنماؤں اور عمائدین نے طالبان سے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ مغویوں کو تین دن کے اندر رہا کر دیا جائے ورنہ لکی مروت سے ساری قوم ان کے خلاف نکلے گی۔

اس کے علاوہ حکومت اور سکیورٹی اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بے گناہ لوگ ان کی حراست میں ہیں تو انھیں رہا کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article