تسنیم نیوز کے مطابق ایرانی صدر کے چابہار دورے کے موقع پر، اس شہر کے عوام تبدیلی اور بہتری کی امید کے ساتھ اپنی درخواستیں اور ضروریات پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ دورہ چابہار کے عوام کے لیے اپنی آواز صدر تک پہنچانے کا نادر موقع فراہم کر رہا ہے۔
چابہار کی بنیادی محرومیوں اور عوامی مطالبات
- صحت کی سہولیات کی کمی:
چابہار کے عوام کی سب سے بڑی تشویش صحت کے ناقص نظام سے متعلق ہے۔ تاج بیگم کے مطابق، انہیں علاج کے لیے دوسرے شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے، جو وقت اور وسائل کی ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ 540 بستروں پر مشتمل ہسپتال فوری تعمیر کیا جائے، جو 2017 میں منصوبہ بندی کے باوجود تعطل کا شکار ہے۔ طبی کارکنوں کے مطابق، یہ ہسپتال خطے کے طبی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔
- سمندر پر مبنی معیشت کی ترقی:
چابہار کے ماہی گیر اور نوجوان کاروباری افراد سمندری وسائل کو ترقی دینے کے لیے حکومتی مدد کے خواہاں ہیں۔ مقامی ماہی گیر ایوب کے مطابق، سمندر روزگار اور خوشحالی کے مواقع پیدا کر سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت ماہی گیری اور بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کرے۔
- سرحدی صلاحیتوں کا استعمال:
ریمدان بارڈر مارکیٹ جیسی سرحدی منڈیوں کے مؤثر انتظام کے ذریعے مقامی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ مقامی تاجر حامد کا کہنا ہے کہ بہتر انفراسٹرکچر سے کاروبار میں آسانی پیدا ہوگی اور ملازمت کے مواقع بڑھیں گے۔
- پینے کے پانی کا بحران :
چابہار اور دشتیاری میں پینے کے پانی کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ دیہی علاقوں کے مکینوں کو صاف پانی کے حصول کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جو عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ مقامی رہائشی منصور اور ٹیچر رضیہ کے مطابق، پانی کے بحران کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
دارالحکومت کی ممکنہ منتقلی :
چابہار کو دارالحکومت کی منتقلی کے لیے ایک ممکنہ مقام سمجھا جا رہا ہے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بتایا کہ اس منصوبے پر کئی دہائیوں سے غور کیا جا رہا ہے، لیکن فیصلے کے لیے بنیادی ڈھانچے اور حیاتیاتی صلاحیتوں کی مکمل جانچ ضروری ہے۔
صدر کے دورے کی توقعات :
صدر کے متوقع دورے کو چابہار کے بنیادی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی بحالی کے لیے ایک سنہری موقع سمجھا جا رہا ہے۔ عوام اس دورے سے امید رکھتے ہیں کہ موجودہ انفراسٹرکچر اور حکومتی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی، جو اقتصادی، سماجی، اور ماحولیاتی حالات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
ایک اہم مسئلہ جو تسنیم کی رپورٹ میں نہیں :
تسنیم نیوز کی رپورٹ بلوچستان کے مسائل اور ساحلی علاقوں کی پسماندگی کا ایک اجمالی خاکہ پیش کرتا ہے لیکن یہاں ایک سب سے اہم مسئلہ مقامی لوگوں کی زمین کی ملکیت سے محرومی اور ہزاروں بے گھر افراد کے لیے نئے مںصوبوں میں شفاف طریقے سے رہائش کی فراہمی ہے۔
گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس نے پورے بلوچستان کو یقینی طور پر غمزدہ کیا ، ویڈیو میں ایک غریب خاندان کے رمین میں واقع گھر کو بنیاد مسکن نے غیر قانونی قرار دے کر توڑ دیا۔ چابھار شہر میں نئے رہائشی منصوبوں کے ساتھ بلوچ آبادیاں قرون وسطی کا منظر پیش کرتی ہیں۔ جو پانی ، بجلی ، سڑک جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ ان کے گھروں تک بجلی کی تاریں بہت دور سے مکڑیوں کی جالوں کی صورت پہنچتی ہیں جب کہ ان کے سروں پر بلند و بالا عمارتیں جیسے ان کا مذاق اڑا رہی ہیں۔
آنے والے دنوں میں چابھار ، مزید تقسیم کے طرف جائے گا کیونکہ اہم مسائل اور وسائل کی تقسیم پر حکومتی ذمہ داران کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں۔