بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتال کیمپ کو آج 5132 دن ہوگے۔
بلیدہ سے سیاسی و سماجی کارکنان عبداللہ بلوچ، امجد میران بلوچ مقصود بلوچ نے اظہار یکجہتی کی ۔
وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی ظلم جبر کے سیاہ طویل راتوں کی تاریخ کے اور اق ان گنت معلوم نا معلوم وحشت ناک مظالم کی کہانیوں سے لکھی ہوئی ہیں جہاں نوجوانوں کے لہو کی چھینٹں کبھی ریاستی عقوبت خانوں کی تاریک کوٹھریوں کی بے رحم دیواروں پر تو کبھی گلزمین کی خاک پر نقش ہیں ایسی کہی تاریک راتیں بلوچوں کے حصے میں پڑی ہیں جہاں جوانوں کی پیشانیوں کو بنا کسی شکن کے پاکستانی ریاست کی ننگی گولیوں کا سامنا رہے تو کبھی انہی تاریکوں کی آڑ میں نوجوانوں کی لاشوں کو اسی کے دامن میں بے دردی سے گھنٹے ہوئے لاکر پھینک دیا گیا ۔
ماماقدیر بلوچ نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں امر ہونے والے ان تمام ہیروز کی طرح وہ بھی انسانیت کے لیے لڑی جانے والی مقدس پرامن جنگ کے حقیقی ہیروز ہیں جو صدیوں سے چل رہی تسلسلکی کی کڑیوں کوجوڑے اور تھامے ہوئےآگے ہی آگے بڑھےچلےآرہے ہیں خواہ وہ قومیت رنگ نسل میں ایک دوسرے سے جدا تھے جہنوں نے زندگیاں گنوائیں مگر یقین اور عزم نہیں گنیوایا ہمارے ہی سرزمین کے بطن سے پھوٹے ہوئے کئی جوان پھول ایسے ایسے بھی تھے جن کے نام اور چہرے ہم۔میں سے کسی نے بھی سنے اور دیکھے نہیں لیکن ان کا مقصد ایمان اور جہدوجہد اسی دھرتی ماں کی ننگ ناموس کی حفاظت تھا جو خود گمنامی کی موت کو بھی خندہ پیشانی سے قبول کیا مگر دنیا کی تاریخ میں اپنے قوم اور زمین کو گمنامی کی موت مرنے نہیں دیا آج ان کی خاکی جسمیں کہاں کش مقام پر دفن ہیں یہ ہم سے کسی بھی علم نہیں مگر ان کی روحیں آج بھی ہمارے آس پاس سانس لیے رہی ہیں۔
ماماقدیربلوچ نے کہاکہ یہ تاریکی آج بھی ہمارے گردمنڈلارہا ہے اس تاریکی نے ایک بار پھر اپنے شکنجو میں ان نوجوانوں کے جسموں کو جکڑ لیا پھر سے ایک تاریک رات سہارہ لیتے ہوئے دشمن اور اس گماشتہ اور کرائے کے قاتل جو بلوچ دھرتی پر جنے اور جس دھرتی ماں نے انہیں بلوچ ہونے کا اعزاز یا اسی اعزاز اور ماں کی مامتا کا سودا کرکے اس دھرتی ماں کے غیرت مند اور نڈر سپتوں کو اسی دھرتی سے والہا نہ محبت کرنے کی سزا میں بلوچ قوم سے چھین لیا گیا ہے۔