بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کا کوئٹہ میں احتجاجی ریلی و مظاہرہ

0
92

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں زیارت واقعے پہ بلوچ جبری لاپتہ افراد لواحقین نے آج بولان میڈیکل کالج کے مین گیٹ سے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کی مقام تک ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی جس میں دوسرے تنظیموں کے کارکنان کے ساتھ کوئٹہ سیول سوسائٹی کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، احتجاجی دھرنا گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں دھرنے کی مقام پہ آکر اختتام پذیر ہوا۔

ریلی نے دھرنے کی مقام پر آکر پرہجوم جلسے کی شکل اختیار کی جہاں دھرنے میں شریک بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے اپنے دکھ درد بیان کیے، مقررین کا کہنا تھا جبری گمشدگیوں کے خلاف ہمارا پر امن احتجاج سالوں سے جاری ہیں، ہم ملکی آئین اور قانون کے تحت غیر قانونی حراست کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں، ہمارا شروع دن سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے ان میں سے کسی پہ اگر کوئی جرم ثابت ہوا تو بھلا اسے ہمارے سامنے پھانسی پہ لٹکا دو لیکن سالوں سے انہیں غائب کرکے ہمیں اس اذیت میں نا ڈالو، ان کا کہنا تھا کہ اگر آپکو اپنیملکی آئین اور عدالتی نظام پہ بھروسہ نہیں تو ہم کیوں ان کو مانیں؟

مقررین نے کہا کہ ہم یہاں کوئی اور مراعات مانگنے نہیں آئے ہیں بلکہ اپنے پیاروں کی سلامتی مانگنے آئے ہیں، ہمیں یہ خدشہ اور ڈر گھروں میں بیٹھنے نہیں دیتا کہ کہیں ان کو زیارت واقعے کی طرح ماورائے آئین و قانون قتل نا کیا جائے، انکا کہنا تھا کہ ہمارے اٹھائے گئے لوگ لاپتہ نہیں انہیں جبری طور پر اٹھا کر اور ریاستی اداروں نے اپنے غیر قانونی حراست میں لیا ہوا ہے۔

لواحقین نے عندیہ دیا کہ اگر اب بھی حکومت اور انکے مقتدرہ اداروں نے ہمارے مطالبات پہ عملدرآمد نہیں کیا اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو اگلے مرحلے میں تام دم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کریں گے۔

احتجاجی دھرنے میں آج پھر صوبائی وزیر زمرک اچکزئی، بی این پی مینگل کے اراکین اسمبلی ثناء بلوچ اور شکیلہ نوید دہوار تشریف لائے جو حکام بالا کا یہ پیغام لائے تھے کہ لواحقین دھرنا ختم کر دیں اسکے بعد انکے مطالبات پہ پیشرفت ممکن ہے، جب لواحقین نے منع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی وہ اس ریاست اور حکومت بھی بھروسہ کرکے اپنے احتجاج اس شرط اور یقین دہانی پہ ختم کر چکے ہیں کہ انکے لاپتہ لوگوں کو چھوڑا جائے گا لیکن بجائے کہ انکو زندہ بازیاب کرتے اب جعلی مقابلوں میں انکی مسخ شدہ لاشیں مل رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پچھلے 23 دنوں سے گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، جن کے مطالبات ہیں کہ انکے لاپتہ پیاروں کو بازیاب کیا جائے، انہیں یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ انکے پیاروں کو جعلی مقابلوں میں نہیں مارا جائے گا اور جو لاپتہ افراد سانحہ زیارت میں قتل کیے گئے، جوڈیشل کمیشن قائم کرکے ان پہ منصفانہ انکوائری کی جائے۔

گزشتہ دنوں حکومتی وفد تشریف لایا تھا تو دھرنے میں موجود 46 لاپتہ افراد کے لسٹ اور دھرنے کے مطالبات اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

لواحقین کا مزید کہنا تھا کہ وہ اب طفل تسلیوں میں نہیں آنے والے ہیں، دریں اثنا آج نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اسحاق بلوچ بھی ایک وفد کے ساتھ دھرنے پہ تشریف لائے اور یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ انکے پارٹی پالیسی کا حصہ ہے اور اس پہ وہ انکے ساتھ کھڑے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here