ترکی کا داعش کے نئے رہنما کی گرفتار ی کا دعوی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ترکی کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے داعش کے نئے رہنما ابوالحسن کو ایک گولی چلائے بغیر استنبول کے ایک گھر سے گرفتار کر لیا ہے۔ اس طرح نئے رہنما کا گروپ پر کنٹرول تین ماہ میں ہی ممکنہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔

گرفتاری کی اطلاع سب سے پہلے ترک ویب سائٹ اودا ٹی وی نے دی۔

ترک ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ اسلامک سٹیٹ(داعش) کے رہنما سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے اور ترک صدر رجب طیب اردوان اس گرفتاری کا باضابطہ اعلان کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ اس بارے میں تفصیلات آئندہ دنوں میں بتائیں گے۔

وائس آف امریکہ کے لیے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق دو سنیئر ترک عہدیداروں نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پربلومبرگ نیوز کو بتایا ہے کہ صدر اردوان کو اس گرفتاری کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔

امریکی عہدیدار اس بارے میں کوئی فوری تبصرہ کرنے میں محتاط ہیں۔

پنٹاگان کے پریس سیکریٹری جان کربی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ القریشی کی گرفتاری کی خبروں کی تصدیق کرتے ہیں۔

”بلاشبہ، ہم دن بھر اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے تھے لیکن ہم اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ جہاں ہم میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات کی تصدیق کر سکیں“

اسلامک سٹیٹ نے ابوالحسن القریشی کو مارچ میں گروپ کے تیسرا رہنما کو یہ کہتے ہوئے نامزد کیا تھا کہ وہ اپنے پیش رو کی شام کے اندر امریکی آپریشن میں ہلاکت کے بعد قیادت کی ذمہ داری جلد سنبھال لیں گے۔

اس اعلان کے فورا بعد داعش کے پیروکار نئے رہنما کے پیچھے جمع ہو گئے تھے اور داعش کے میڈیا گروپ نے عراق، شام، نائیجیریا، صومالیہ، افغانستان، فلپائن اور دیگر علاقوں سیشدت پسندوں کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کرنا شروع کر دیں جو ابو الحسن کے ساتھ وفاداری کا عہد کر رہے تھے۔

اس حمایت کے باوجود نئے لیڈر کی شناخت کے بارے میں اب بھی سوالات موجود ہیں جس کی وجہ سے ترکی س کے ان دعووں کی تصدیق میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

ابو الحسن ہاشمی القریشی، نام کے ساتھ جڑا خاندانی لقب و نسب داعش کے نئے رہنما کا قبیلہ قریش سے تعلق کے سبب خونی رشتہ پیغمبر اسلام سے خونی رشتے میں جوڑتا ہے جو داعش میں خلافت کے حصول کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔

Share This Article
Leave a Comment