عمران خان کا لانگ مارچ ناکام، واپس بنی گالہ روانہ،کارکنان منتشر

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کا گذشتہ روز 25مئی کو شروع ہونے والا لا نگ ناکام ہوگیا۔

عمران خان پشاور سے اسلام آبا د پہنچتے ہی حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی 6 دن کا ا لٹی میٹم دیکر واپس بنی گالہ روانہ ہوگئی۔

عمران خان کے الٹی میٹم کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان منتشر ہوگئے جو ڈی چوک اور عمران خان کے قافلے میں شریک تھے۔

اپنے ساتھیوں اور کارکنان کے ہمراہ ڈی چوک پہنچنے سے قبل عمران خان نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے چھ روز میں ان کے مطالبات نہ مانے تو لاکھوں افراد کو اسلام آباد لایا جائے گا۔

تاہم تحریک انصاف کی جانب سے تاحال یہ باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا کہ ان کا لانگ مارچ فی الحال اختتام پذیر ہوگیا ہے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چھ روز میں الیکشن کرائے جائیں ورنہ اسلام آباد میں لاکھوں افراد کو جمع کیا جائے گا۔

جناح ایونیو میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’چھ دن دیتا ہوں حکومت کو۔ اسمبلیاں تحلیل کریں اور جون میں الیکشن کا اعلان کریں۔‘

’اگر چھ دن میں آپ یہ نہیں کریں گے تو ساری قوم کو لے کر اسلام آباد آؤں گا۔ آپ کے پاس وقت ہے۔ حکومت آپ سے چل نہیں رہی۔ آپ حکومت چلانے نہیں آئے۔ کرپشن کیسز ختم کروا رہے ہیں۔ اگر چھ دن میں آپ نے فیصلہ نہ کیا تو ساری قوم کو لے کر اسلام آباد آؤں گا۔ اس بار کوئی رکاوٹیں نہیں ہوں گی۔ سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ پنجاب سے بھی سارے لوگ پہنچیں گے۔‘

انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کا مطالبہ نہ مانا گیا تو وفاقی دارالحکومت میں لاکھوں لوگوں کو لایا جائے گا۔

اس موقع پر عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پچھلے 2 دن میں جو میں نے دیکھا یہ ملک میں انتشار کروانا چاہتے ہیں۔

’یہ پولیس اور فوج کو عوام سے لڑوانا چاہتے ہیں۔ پولیس بھی ہماری ہے، فوج بھی ہماری ہے اور عوام بھی ہماری ہے۔‘

واضع رہے کہ پاکستان سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ریلیف دیکر ان کی کسی کارکنان کو گرفتار نہ کرنے،ڈی چوک نہ جانے اوراسلام آباد کے ایک گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی تھی لیکن عمران خان نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی خلاف ورزی کرکے ڈی چوک جانے کا اعلان کیا جس پر حکومت نے فوج طلب کرلیاتھا۔

پی ٹی آئی کارکنان نے ڈی چوک پر سرکاری وعوامی املاک کو نذرآتش کرکے نقصان پہنچایا، میڈیا آہاؤسزپر پتھراؤ کیاجس پر عوامی، سیاسی، سماجی و کاروباری حلقوں نے اس کی ذمہ دار سپریم کورٹ کو قرار دیدیا کیونکہ پی ٹی آئی کی تاریخ پرتشدد رہی ہے جس کی سپریم کورٹ نے گیرانٹی بھی نہیں لی تھی اور انہوں نے اپنی پرانی تاریخ کو دہر اکر سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچایا اور فتنہ فسادات شروع کی تھی۔

کہا جارہا ہے کہ لانگ مارچ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی عدم شرکت سے عمران خان مایوس و دلبرداشتہ ہوگئے اور انہوں نے اس میں عافیت سمجھی کی لانگ مارچ کو ختم کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment