بلوچستان کے ضلع پنجگور میں گچک اور گردنواح میں ایک بار پھر…
بلوچستان کے ضلع آوارن کے علاقے جھاو¿ میںچوری اور ڈکیٹی کے بڑھتے…
مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں فنکار حنیف…
کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4098 دن…
یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مزار بلوچ نے نا معلوم مقام سے…
انسانی حقوق کی کارکن اور بلوچ ہیومین رائٹس کونسل کی سابقہ وائس…
گوادر اور پسنی کے درمیان تیز آندھی اور گردو غبار کے طوفان…
ضلع کیچ پاکستانی فورسز کی طرف سے بلوچستان کے جنگلات کو آگ…
اس واقعہ میں براہ راست ریاستی ایجنسیاں ملوث ہیں جو ایک عرصے…
بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ بی آر پی کی جانب سےہفتے کے روز جرمنی کے دو مخلتف شہروں میں“بلوچستان آگاہی مہم” عنوان سے احتجاجی مظاہرے منعقد کیئے گئےاور کیمپ لگا کر مقامی لوگوں کو بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔ ترجمان نے کہا ہے جرمنی کے شہر منھائم میں کیا گیا جہاں کارکنان نے ایک کیمپ لگا کر پمفلٹ کے زریعے مقامی افرادمیں بلوچستان میں ہونے والے ظلم و جبر اور خصوصی طور پر جبری لاپتہ بلوچوں کے حوالے سے آگاہی دی۔ جبکہ جرمنی کے ہی شہر آخن میں بھی ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جہاں کارکنان کی ایک کثیر تعداد نےشرکت کی جس میں خواتین اور بچوں نے بھی حصہ لیا۔ مظاہرے کے دوران جرمنی میں بی آر پی کے سرگرم کارکنان در محمد بلوچ، حارث بلوچ، حفیظ بلوچ، جمیلہ عبدل رسول،عبدل جلیل اور فحیم بلوچ نے حکومت اور عالمی انسانی حقوقکے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور قتل و غارت گری کا نوٹس لیں۔ مظاہرے کے منتظمین اقبال بلوچ اور شعیب محمد نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسلئہ سنگین صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان کے کسی شہر یادیہات سے کوئی نا کوئی جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے۔
بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے طلباء کا ملتان تا اسلام اباد لانگ مارچ…
بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کےمرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں…
Sign in to your account