یونیورسٹی آف تربت کے اکیڈمک اسٹاف نے یونیورسٹی انتظامیہ کے دھمکی آمیز سرکلر کے اجرا کے بعد پیر سے پُرامن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یونیورسٹی آف تربت کی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (ASAUT)نے اپنے جائز، قانونی اور اجتماعی مطالبات کے حق میں جاری پُرامن احتجاجی سلسلے کو مطالبات کی منظوری تک برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اساٹ کونسل کے مطابق ایسوسی ایشن کے بنیادی مطالبات میں یونیورسٹی کے اہم ترین آئینی و انتظامی عہدوں (Statutory Positions) بشمول رجسٹرار، ڈائریکٹر فنانس اور کنٹرولر امتحانات پر طویل عرصے سے جاری عارضی یا قائم مقام (Acting) تعیناتیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ ان عہدوں پر قانون اور میرٹ کے مطابق فوری طور پر مستقل اور شفاف تقرریوں کا عمل مکمل کیا جائے، اور فیکلٹی کی خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے باقاعدہ اشتہارات جاری کیے جائیں۔
دریں اثناء، ASAUT نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ سرکلر پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سرکلر میں فیکلٹی ممبران کو احتجاجی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں شوکاز نوٹس اور تادیبی کارروائی کی تنبیہ کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ اساتذہ کے آئینی اور جائز مطالبات کا جواب دباؤ، دھمکیوں یا تادیبی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ، بامعنی اور عملی پیش رفت کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ اساتذہ اپنے مطالبات کے لیے مکمل طور پر پُرامن اور قانونی راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کا مقصد ادارے میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔
ترجمان ASAUT نے واضح کیا ہے کہ انتظامیہ کو دباؤ کی پالیسی ترک کر کے مذاکرات اور عملی اقدامات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جب تک تمام جائز مطالبات کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا، اساتذہ کی پُرامن، منظم اور قانونی جدوجہد بھرپور انداز میں جاری رہے گی۔