تربت سے جبری لاپتہ 2 کمسن طالبات کی ڈرامائی گرفتاری و پریس کانفرنس پر سوالات

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیوں کا معاملہ اس وقت ایک نیا اور متنازع موڑ اختیار کر گیا ہے جب تربت سے لاپتہ کی گئی دو کمسن طالبات کو پولیس اور کٹھ پتلی وزیرِ داخلہ بلوچستان نے پریس کانفرنس میں پیش کر کے "خودکش بمبار” قرار دے دیا۔

سیاسی و سماجی ، حقوقِ انسانی کے فعال حلقے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اس پیش رفت کو سنسرشپ، جبری گمشدگی اور قانونی ضوابط کی دھجیاں اڑانے کا نیا ریاستی ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق 28 جولائی 2026ء کو رات 3:00 بجے کے قریب ضلع کیچ کے علاقے سنگ آباد کرکی سے ایف سی اور سی ٹی ڈی نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر 17 سالہ طالبہ شہناز (دختر عارف) اور 14 سالہ شراناز (دختر اعجاز) کو ان کے 50 سالہ سرپرست عارف عیسیٰ کے ہمراہ حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ دونوں کمسن طالبات اس سے قبل بھی جبری طور پر لاپتہ کی جا چکی تھیں۔

اہلِ خانہ اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل دو ہفتوں سے ان کی محفوظ واپسی اور قانونی عدالتوں میں پیشی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

جبری گمشدگی کے اس واقعے کے دنوں بعد بلوچستان کے وزیرِ داخلہ ضیا اللہ لانگو نے سول سیکریٹریٹ کوئٹہ میں ایک مختصر اور محدود پریس کانفرنس کے دوران دونوں کمسن لڑکیوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

وزیرِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دو نو عمر لڑکیوں (جن کی عمریں 16 اور 12 سال بتائی گئیں) کو حراست میں لیا ہے، جنہیں ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم نے خودکش حملے کے لیے تیار کیا تھا۔

ضیا اللہ لانگو کے مطابق لڑکیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے دوران حراست میں لیا گیا، جس سے عسکریت پسندوں کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

وزیرِ داخلہ نے الزا م لگایا کہ کالعدم تنظیم نے 16 سالہ لڑکی کے شوہر سمیت خاندان کے 8 سے 10 افراد کو تنظیم کے ساتھ کام نہ کرنے پر قتل کیا تھا۔

اس پریس کانفرنس اور واقعاتی تسلسل نے صحافتی اور حقوقِ انسانی کے حلقوں میں کئی سنگین سوالات جنم دیے ہیں۔

پریس کانفرنس میں صرف 6 سے 7 منتقبہ میڈیا نمائندوں کو مدعو کیا گیا، جس نے اس کارروائی کی شفافیت پر ابتدائی سوالات اٹھا دیے۔ ازخود آزاد صحافیوں کو سوالات پوچھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

جہاں ایک طرف بی وائی سی اور مقامی ذرائع جولائی کے آخر میں گھر سے گرفتاری کو جبری گمشدگی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، وہاں فورسز کی جانب سے "منتقلی کے وقت کارروائی” کی کہانی پیش کرنا زبردستی تحویل میں رکھے گئے افراد پر من گھڑت مقدمات قائم کرنے کی پرانی عسکری پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔

کمسن اور نابالغ بچوں کو عدالتی کارروائی کے بغیر میڈیا کے سامنے "دہشت گرد” کے طور پر پیش کرنا نہ صرف پاکستان کے اپنے آئین اور جووینائل جسٹس سسٹم کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کے قوانین کے بھی منافی ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ فورسز بلوچستان میں بلوچ خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگیوں پر عالمی اور مقامی سطح پر اٹھنے والی آوازوں سے دباؤ کا شکار ہیں۔ اس طرح کے بیانیے قائم کر کے ریاست نہ صرف اپنی ماورائے عدالت کارروائیوں کا جواز گھڑنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ بلوچ خواتین پر سکیورٹی شکنجہ مزید کسنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد جبری لاپتہ افراد کو میڈیا کے سامنے پیش کر کے ان سے دیا گیا اسکرپٹ پڑھوانے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔

Share This Article