کراچی سے 3 بلوچ طلبا پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ ، وی بی ایم پی کو شدید تشویش

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی فورسز نے کراچی سے 3 بلوچ طلباکو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنزنے ا سکی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے بلوچ طلباء نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) سے رابطہ کرکے بتایا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے زیرِ تعلیم طلباء سیف الدین، زبیر احمد اور قدیر کو کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔

طلباء کے مطابق 23 اگست کو سیف الدین اور زبیر احمد کو شاہراہِ فیصل کراچی جبکہ قدیر کو گوہر گرین سٹی میں واقع ایم ایس آئی ٹی سینٹر سے فورسز نے لاپتہ کیا۔ تاحال نہ ان کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث کراچی میں زیرِ تعلیم بلوچ طلباء میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ طلباء نے ایم ایس آئی ٹی سینٹر کے کمپلیکس میں احتجاج بھی شروع کر رکھا ہے۔

طلباء کا کہنا ہے کہ یہ تینوں نوجوان حکومتِ بلوچستان اور BRSP کے Rise پروگرام کے تحت جدید ہنر سیکھنے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کراچی بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، ان کی باقاعدہ پولیس ویریفکیشن ہوئی، تمام ضروری دستاویزات جمع کروائی گئیں اور وہ حکومت کی زیرِ نگرانی ایک باقاعدہ پروگرام کا حصہ تھے۔

اگر ایسے طلباء، جو حکومتی منصوبے کے تحت تعلیم اور ہنر حاصل کر رہے تھے، لاپتہ کر دیے جائیں تو یہ نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ بلوچستان کے دیگر نوجوانوں کے لیے بھی باعثِ تشویش ہے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے سیف الدین، زبیر احمد اور قدیر کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو لاپتہ کرنا ان کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی سے تینوں بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی کا فوری نوٹس لیا جائے، ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے اور کراچی میں زیرِ تعلیم بلوچ طلباء میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔

Share This Article