بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کے کیمپوں، قافلوں اور روڈ سرچنگ ٹیموں پر بم دھماکوں اور مسلح حملوں کے سلسلے وار واقعات میں ایک اہلکار ہلاک اور ایف سی اہلکارسمیت متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
ضلع کیچ کے علاقے حیر آباد میں مسلح افراد نے مورچے پر سیکیورٹی فراہم کرنے والے ایک اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا، جس کے بعد فوج کے قافلے پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس سے قبل حیر آباد میں ہی روڈ سرچنگ اور چیلا کرنے والی ایف سی (FC) ٹیم پر 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 مسلح افراد نے ہینڈ گرینیڈ پھینکا اور فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکار زخمی ہو گئے۔
خاران میں البت کے علاقے میں مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں پاکستانی فوج کے کیمپ کو شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
اسی طرح زہری بلبل کے علاقے میں فوج کے پیدل اہلکار جیسے ہی ایک خالی مورچے میں پہنچے تو انہیں بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔
ادھر واشک میں ارماگئے کے مقام پر بھی فوج پر مسلح حملے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
ان تمام واقعات کی ذمہ داری فی الحال کسی مسلح تنظیم نے قبول نہیں کی ہے، جبکہ سرکاری حکام کی جانب سے جانی و مالی نقصان کا حتمی تخمینہ اور باضابطہ موقف سامنے آنا باقی ہے۔