بلوچستان کے علاقے منگچر اور مستونگ میں پاکستانی فوج کی جانب سے سخت اقدامات اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق منگچر میں اہم تجارتی مرکز کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دوبارہ بند کر دیا گیا ہے، جبکہ مستونگ میں بارڈر تجارتی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو تشویشناک صورتِ حال کا سامنا ہے۔
ضلع قلات کے علاقے منگچر میں 18 اگست 2026ء کو منگچر بازار کو سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی منگچر بازار مسلسل 25 روز تک سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بند رہا تھا۔
25 دن کے طویل لاک ڈاؤن کے بعد بازار کو صرف دو روز قبل کھولا گیا تھا، جس سے علاقائی رونقیں عارضی طور پر بحال ہوئی تھیں، تاہم آج صبح اچانک دوبارہ کاروباری مراکز اور دکانیں بند کرا دی گئیں۔
دوسری جانب مستونگ کے علاقے کاریز سور میں فوج نے ایران کے ساتھ سرحدی تجارت سے منسلک زمباد (زمیاد) گاڑیوں اور ان کے ڈرائیوروں کے خلاف سخت اقدام کیا ہے۔
گزشتہ روز عصر کے وقت فوج کی بکتر بند گاڑیاں کاریز سور کے مقام پر پہنچیں اور وہاں سے گزرنے والی زمباد گاڑیوں کو زبردستی روک لیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق فوج کے اہلکاروں نے زمباد گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد 5 گاڑیاں اپنے ساتھ تحویل میں لے کر روانہ ہو گئے۔
علاقائی ذرائع اور ڈرائیوروں کی تنظیموں نے مستونگ میں تشدد اور قلات میں مسلسل تجارتی مراکز کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے ان کارروائیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔