گورنمنٹ بوائز انٹر کالج وڈھ میں تعلیمی زبوں حالی، طلبہ کے مستقبل کے ساتھ سنگین مذاق ہے: بی ایس او

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) وڈھ زون نے گورنمنٹ بوائز انٹر کالج وڈھ کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقے کے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیا ہے۔

اپنے جاری کردہ ایک باقاعدہ بیان میں تنظیم نے کہا ہے کہ وڈھ بازار کے قریب واقع یہ قدیم اور اہم تعلیمی ادارہ دہائیوں پر محیط ایک وسیع رقبے پر قائم ہے، جو سینکڑوں طلبہ و طالبات کو اعلیٰ ثانوی تعلیم فراہم کرنے کا واحد بڑا مرکز ہے، جہاں اس وقت تقریباً ڈھائی سو طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ماضی میں یہاں پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ کے شعبے موجود تھے، جبکہ رواں سال کمپیوٹر سائنس (ICS) کے شعبے کا بھی اضافہ کیا گیا، جو بظاہر ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم صرف نئے شعبوں کا قیام اس وقت تک بے معنی ہے جب تک طلبہ کو معیاری تدریس، بنیادی سہولیات اور باقاعدہ اساتذہ میسر نہ ہوں۔

ترجمان بی ایس او نے افسوسناک صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس اہم ادارے کی حالت دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے۔ کالج میں مختلف مضامین کے لیکچررز کی شدید کمی ہے، معیاری لائبریری موجود نہیں، اور سائنس لیبارٹری ضروری آلات سے محروم ہے۔ اس کے علاوہ کھیلوں کی سرگرمیاں تقریباً ختم ہوچکی ہیں، جبکہ طلبہ کے لیے سالانہ مطالعاتی دورے اور تعلیمی ٹرپس بھی عرصہ دراز سے بند پڑے ہیں۔

تنظیم کے مطابق، طلبہ کے لیے ہاسٹل کی عمارت گزشتہ پانچ برسوں سے زیرِ تعمیر ہے، مگر آج تک مکمل نہیں ہوسکی، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مزید برآں، کالج میں طلبہ کی آمدورفت کے لیے موجود واحد بس بھی عرصۂ دراز سے ناکارہ پڑی ہے اور عملی طور پر استعمال کے قابل نہیں، جس کے باعث دور دراز کے طلبہ روزانہ سفری مشکلات اور اضافی اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہیں اور ایک فعال ٹرانسپورٹ سروس نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حاضری اور تعلیمی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔

بیان میں سب سے زیادہ تشویشناک امر کالج کے تدریسی اور انتظامی نظام کا تقریباً مفلوج ہونا قرار دیا گیا ہے۔ طلبہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ادارے میں صرف لیب اسسٹنٹ، کلرک اور چوکیدار ہی اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے انجام دیتے نظر آتے ہیں، جبکہ بیشتر تدریسی عملے کی غیر حاضری معمول بن چکی ہے، جو نہ صرف محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے بلکہ طلبہ کے بنیادی حقِ تعلیم کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ اتنے بڑے اور اہم تعلیمی ادارے کو مسلسل نظر انداز کیا جانا انتہائی افسوسناک ہے، اور اگر فوری طور پر اساتذہ کی تعیناتی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، زیرِ تعمیر ہاسٹل کی تکمیل اور تعلیمی ماحول کی بحالی کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے نتائج صرف اس ادارے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے علاقے کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کریں گے۔

بی ایس او وڈھ زون نے متعلقہ حکام، محکمہ تعلیم بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ بوائز انٹر کالج وڈھ کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے، اساتذہ کی خالی آسامیوں کو فوری پُر کیا جائے، ہاسٹل کی تعمیر مکمل کی جائے، لائبریری اور لیبارٹری کو فعال بنایا جائے اور طلبہ کو وہ تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جو ایک معیاری تعلیمی ادارے کا لازمی حصہ ہیں۔

تنظیم نے واضح کیا ہے کہ اگر ان مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا، تو طلبہ کے جائز حقوق کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article