ریاستی آلہ کار شفیق مینگل کے گھر پر حملے کے چند تصاویر منظر عام پر آگئے۔
پاکستانی فوج کے آلہ کار اور ڈیتھ اسکواڈ سرغنہ شفیق مینگل کے گھر پر ہونے والے حملے میں گھر اور عسکری کمپائونڈ میں موجود چند گاڑیوں کے تصاویر سنگر نیوز کو موصول ہوگئے جس میں پولیس، پاکستانی فوج اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے زیر استعمال سرکاری وغیر سرکاری گاڑیاں ناکارہ بنائی گئی ہیں۔
یہ خضدار شہر میں شفیق مینگل کے گھر اور عسکری کمپائونڈ میں موجود سرکاری وغیر سرکاری گاڑیاں ہیں جو 8 جولائی کو بلوچ آزادی پسندوں کی فدائی حملے کے بعد جھڑپوں میں ناکارہ بنائے گئے۔
یاد رہے کہ شفیق مینگل جو بلوچستان کے ضلع خضدار کے رہائشی ہیں، ایک ایسی شخصیت ہیں جن کا نام گزشتہ ایک دہائی کے دوران خطے کے تنازعات سے بھرے سیاسی اور سیکیورٹی منظر نامے میں بار بار سامنے آیا ہے۔ بلوچ قوم پرست گروپس اور انسانی حقوق کی کچھ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کی پشت پناہی میں مسلح نیٹ ورک چلاتے ہیں، جسے مقامی سطح پر "ڈیتھ اسکواڈ” (death squad) کہا جاتا ہے۔
8 جولائی کی فدائی حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) قبول کرتے ہوئے کہا کہ مجید بریگیڈ نے شفیق مینگل کے مرکزی کمپاؤنڈ پر فدائی حملہ کرکے 34 کارندے ہلاک کردیئے اور یہ آپریشن مرگِ غداران کا باقاعدہ آغاز تھا۔ تنظیم کے مطابق آپریشن کے دوران شفیق مینگل اپنے کمپاؤنڈ کے اندر بنے ایک خفیہ زیرِ زمین راستے کا استعمال کرتے ہوئے، اپنے زخمی اور مرتے ہوئے ساتھیوں کو اسی حالت میں تڑپتا چھوڑ کر، اپنی بلٹ پروف گاڑی میں سوار ہوکر فرار ہوگیا تھا۔
منظرِ عام پر آنے والی تصاویر عسکری کمپاؤنڈ کے اندر ہونے والی شدید لڑائی، دھماکوں اور فدائی آپریشن کی سنگینی کی واضح تصدیق کرتی ہیں۔ ان تصاویر میں ناکارہ بنائی گئی گاڑیوں کا تکنیکی و عسکری جائزہ درج ذیل ہے:

ٹویوٹا ہائی لکس ڈبل کیبن اور فور رنر:
اس تصویر میں گہرے رنگ کی ٹویوٹا فور رنر (SUV) اور اس کے پیچھے کھڑی سرکاری سیکیورٹی فورسز کی رنگت والی ہائی لکس سنگین جنگی مابعد اثرات دکھا رہی ہے۔ فور رنر کے تمام شیشے ٹوٹ چکے ہیں اور اس کے ٹائر فائرنگ یا دھماکے کے اسپلنٹرز (چھروں) کے باعث مکمل پنکچر ہیں۔ یہ گاڑیاں عام طور پر کمانڈ اینڈ کنٹرول یا وی آئی پی موومنٹ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

پولیس فورس پِک اپ:
آفیشل بلو اور ریڈ اسٹرائپ (سرکاری پٹی) والی ٹویوٹا ہائی لکس سنگل کیبن پر پولیس (POLICE) واضح لکھا نظر آ رہا ہے۔ گاڑی کے پچھلے حصے پر عسکری طرز کا لوہے کا جنگلہ (Troop Carrier Cage) اور سیڑھیاں لگی ہیں، جو گشت اور اضافی مسلح کارندوں کو فوری جائے وقوعہ پر منتقل کرنے کے کام آتا ہے۔ اس گاڑی کا اگلا حصہ اور بائیں جانب کا دروازہ شدید دھماکے یا تصادم کی وجہ سے پچک چکا ہے اور ٹائر پھٹے ہوئے ہیں، جو فرنٹ لائن حملے کو ظاہر کرتا ہے۔

تباہ شدہ سیکیورٹی وہیکل:
اس تصویر میں عسکری اور لاجسٹک استعمال میں رہنے والی ایک اور سلور پِک اپ الٹی اور بری طرح پچکی ہوئی حالت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے پچھلے ڈالے میں فورسز کے زیرِ استعمال بھاری گدے، فلیٹ ٹائر اور دیگر اسپیئر پارٹس بکھرے پڑے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گاڑی کمپاؤنڈ کے اندر لاجسٹک سپلائی یا اہلکاروں کی بیرکوں کے زیرِ استعمال تھی۔ اس کی باڈی پر گولیوں اور چھروں کے گہرے نشانات ہیں۔

ٹویوٹا ہائی لکس 3.0 D-4D:
یہ سلور رنگ کی طاقتور ڈبل کیبن فور بائی فور (4×4) وہیکل ہے، جس پر سامنے کی طرف عسکری پش بار (Bull Bar) لگا ہوا ہے۔ گاڑی کی پوری دائیں سائیڈ پر گولیوں کی بوچھاڑ (Bullet Riddled Body) کے درجنوں نشانات دیکھے جا سکتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس گاڑی کو گھات لگا کر سائیڈ سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کے کھڑکیوں کے شیشے غائب ہیں اور باڈی پینل گولیاں لگنے سے اندر دھنس چکے ہیں۔ یہ گاڑیاں عام طور پر جنگی علاقوں میں تیز رفتار اسٹرائیک یا اسکواڈ موومنٹ کے لیے انتہائی موزوں سمجھی جاتی ہیں۔
یہ تمام تصاویر اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ فدائی حملے کے وقت کمپاؤنڈ میں بھاری مادی و عسکری نقصان پہنچایا گیا اور وہاں موجود سیکیورٹی نیٹ ورک کا نقل و حمل کا پورا نظام (Mobility) مفلوج کر دیا گیا تھا۔