پاکستانی فوج کا شعبان میں مزید 3 مسلح افراد سمیت مجموعی طور پر 126 افراد کو مارنے کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستانی فوج نے بلوچستان کے علاقے شعبان میں مزید 3 مسلح افراد سمیتمجموعی طور پر 126 افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے متصل سیاحتی علاقہ ہنہ اوڑک اور زیارت میں دو الگ الگ واقعات جس میں 35 کے قریب پولیس اہلکار اور مقامی افراد نامعلوم مسلح افراد کے حملوں میں قتل کئے گئے کے بعد پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مذکورہ علاقوں کے قریبی علاقے شعبان میں فوجی آپریشن شروع کیاہے ۔

فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شعبان کے علاقے میں جاری آپریشن کے دوران مزید 3 مسلح افراد کو ہلاک کردیا ہے ،شعبان آپریشن میں ہلاکتوں کی تعداد 88 ہوگئی۔جبکہ 5 جولائی سے اب تک مجموعی طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 126 خارجی مارے جا چکے ہیں۔

مارے جانے والے افراد کی شناخت، ماضی کی طرح، تاحال میڈیا میں ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ اس صورتحال میں ان خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ افراد وہی پہلے سے جبری لاپتہ لوگ ہو سکتے ہیں، جنہیں سیکورٹی ناکامی کے ردعمل میں انتقامی کارروائی کے طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے شعبان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلح افراد کو ہوائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں انہیں بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن شعبان ابھی تک جاری ہے ۔

فوجی حکام کے سوشل میڈیا پر موجود اکائونٹس ہنہ اوڑک اور زیارت کے واقعات میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ملوث قرار دے رہے ہیں، جبکہ ٹی ٹی پی نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ بعض اندرونی مصدقہ ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہنہ اوڑک اور زیارت کے علاقے، جسے زرغون رینج کہا جاتا ہے، میں معدنیات کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ جس کے بعد ہنہ اوڑک اور زیارت میں قتل عام کے واقعات سے قبل، ہنہ اوڑک کے گائوں ببری میں چند مسلح افراد گھسے اور انہوں نے مقامی افراد کو علاقہ خالی کرنے کی دھمکی دی؛ جسے نہ ماننے کی صورت میں علاقے کے قبائلی افراد اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں 4 مقامی افراد ہلاک ہوئے جبکہ 13 مقامیوں کو مسلح افراد اغوا کر کے لے گئے تھے۔

مصدقہ ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ ہنہ اوڑک اور زیارت کے واقعہ کے پیچھے مکمل طور پر پاکستانی فوج کا ہاتھ ہے، جو طالبان کے نام سے اپنے مسلح ملیشیا کے ذریعے ان علاقوں کی آبادیوں کو بے دخل کرنا چاہتی ہے تاکہ معدنیات کی مائننگ کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔

کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی فوج جن مسلح افراد کو استعمال کر رہی ہے، ان کا تعلق افغانستان کے سابق دورِ حکومت کے صدر اشرف غنی کی فوج سے ہے؛ جو طالبان کے افغانستان پر اقتدار سنبھالنے کے بعد بلوچستان میں پاکستانی فوج کی زیرِ سرپرستی پناہ گزین ہوئے اور اب انہیں استعمال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب زیارت واقعہ کے خلاف کوئٹہ میں لواحقین کا لاشوں کے ہمراہ دھرنا جاری ہے ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article