مختلف کارروائیوں میں 3 فوجی اہلکاروایک آلہ کار ہلاک ،ایس ایس پی دفتر پر قبضہ، اسلحہ ضبط کئے،بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیاکو جاری بیان میں چار مختلف کارروائیوں میں 3 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت ، سوراب میں ایس ایس پی دفتر پر قبضہ، اسلحہ ضبط اور شاہرک میں فوجی آلہ کار کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 20 جون 2026 کو سوراب کے علاقہ نغاڑ میں ایک منظم، مربوط اور کثیر المراحلی کاروائی کی۔ شہر پر عسکری کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کاروائی کے آغاز میں سرمچاروں کو مختلف دستوں میں تقسیم کیا گیا، جنہوں نے بیک وقت اپنے اپنے مقررہ پوائنٹس پر پوزیشن سنبھال کر پورے نغاڑ کو گھیرے میں لے لیا۔

انہوں  نے کہا کہ آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی سرمچاروں کے دستوں نے نغاڑ آنے اور جانے والی مرکزی شاہراہ پر مختلف مقامات پر سخت ناکہ بندی کر دی۔ مقامی بلوچ آبادی کو ممکنہ نقصانات سے بچانے اور قابض فوج کی کُمک و نقل و حرکت کو روکنے کے لیے تمام راستوں کو آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ راستوں کی بندش اور ناکہ بندی مکمل ہوتے ہی سرمچاروں کے مستعد دستوں نے باقاعدہ پیش قدمی کرتے ہوئے نغاڑ میں قائم ایس ایس پی (SSP) آفس پر حملہ کرکے عمارت پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ سرمچاروں نے دفتر کو قبضے میں لینے کے بعد وہاں موجود 8 سرکاری بندوقیں، میگزین، بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر عسکری سازوسامان کو اپنے تحویل میں لے لیا۔ اسی دوران سرمچاروں نے ایس ایس پی آفس کے احاطے میں کھڑی فورسز کی 5 سرکاری گاڑیوں کو نذرِ آتش کر کے خاکستر کر دیا جن میں 2 بلٹ پروف گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایس ایس پی دفتر پر قبضے کے دوران وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو سرمچاروں نے حراست میں لے کر تفتیش کے عمل سے گزارا۔ چونکہ بی ایل ایف قومی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے اور ہماری بندوق کا نشانہ صرف قابض پاکستانی فوج اور اس کے آلہ کار ہیں اس لیے تفتیش مکمل ہونے پر سرمچاروں نے سخت تنبیہ کے بعد تنظیم کے طے شدہ جنگی اصولوں اور انسانی ہمدردی کے تحت تمام زیرِ حراست اہلکاروں کو رہا کر دیا۔ سرمچاروں نے آپریشن مکمل کرنے کے بعد بحفاظت نکل گئے۔

انہوںنے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 19 جون 2026 کو قلات کے علاقے سنگداد میں فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کی دو گاڑیوں پر مشتمل ٹیم پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے 3 پیدل اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ گاڑیوں پر سوار متعدد دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔

ترجمان کے مطابق بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 19 جون 2026 ہی کو ایک اور کاروائی میں تربت کے علاقے آپسر میں قائم فوج کے مرکزی کیمپ پر راکٹ لانچر سے متعدد گولے داغے، جو اپنے اہداف پر جا لگے جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

مزید برآں، بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 13 جون 2026 کو کیچ کے علاقے شاہرک میں ڈن کے مقام پر ایک دکان پہ چھاپہ مار کر کیکن کے رہائشی اور ڈیتھ اسکواڈ کے سرگرم کارندے نذیر ولد علی محمد کو حراست میں لیا۔ نذیر ولد علی محمد طویل عرصے سے ڈیتھ اسکواڈ کے مقامی سربراہ نصیر کی قیادت میں قابض فوج کے لیے مخبری اور سہولت کاری میں براہِ راست ملوث تھا۔ وہ کیچ، کیساک، شاہرک اور شاپک سمیت بالگتر اور کولواہ کے علاقوں میں سرمچاروں کے خلاف جاسوسی اور فوجی آپریشنز میں باقاعدہ حصہ لیتا رہا تھا۔

میجر گہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ مذکورہ کارندہ 2 مارچ 2023 کو شاپک کے پہاڑی علاقے بہترم میں ہونے والے فوجی آپریشن کا بنیادی محرک تھا جس میں تنظیم کے دو سرمچار شعیب عرف ودار اور یحییٰ عرف سیکی شہید ہوئے تھے۔ نذیر نے ان سرمچاروں کا پیچھا کر کے قابض فوج کو ان کی موجودگی کی اطلاع دیا تھا۔ نذیر ولد علی محمد سے تفتیش مکمل کرنے کے بعد، دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر سرمچاروں نے 16 جون 2026 کو شاپک میں گٹ کور کے مقام پر اسے ہلاک کر دیا۔

انہوںنے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ سوراب آپریشن میں ایس ایس پی دفتر پر عسکری کنٹرول حاصل کرنے، 5 سرکاری گاڑیوں کو تباہ کرنے، عسکری سازوسامان ضبط کرنے، قلات میں بم ڈسپوزل اسکواڈ پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 3 اہلکاروں کی ہلاکت، تربت کے مرکزی کیمپ پر راکٹ حملے اور شاہرک میں ریاستی آلہ کار کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ تنظیم اس عزم کو دہراتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی اور بلوچ قومی شناخت کے تحفظ جیسے مقاصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article