بی وائی سی کو ہر فورم سے الگ کرنے کی کوششیں ناکام ہونگی، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کراچی میں عورت مارچ کے لیے حکومتِ سندھ کی جانب سے مشروط اجازت جس میں بی وائی سی اور جے کیو ایس ایم کی شرکت پر پابندی شامل ہےکو ریاستی خوف، جبر اور غیرآئینی طرزِ حکمرانی کی علامت قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہاکہ جس شرط کے تحت عورت مارچ کراچی کو احتجاج کی اجازت دی گئی ہے، وہ محض چند انتظامی ہدایات نہیں بلکہ اس حقیقت کا کھلا اظہار ہے کہ ریاست ہر اُس آواز سے خوفزدہ ہے جو بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے خلاف بولتی ہے۔ خاص طور پر شرط نمبر 7، جو بی وائی سی اور جے کیو ایس ایم جیسی تنظیموں کی شرکت یا حمایت پر پابندی عائد کرتی ہے، نہ صرف غیرجمہوری ہے بلکہ قانونی اور آئینی نقطۂ نظر سے بھی انتہائی متنازع ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کو کس قانون کے تحت ‘پابند’ قرار دیا گیا ہے؟ کب اسے غیرقانونی قرار دیا گیا؟ کس عدالت نے اس پر پابندی لگائی؟ اگر ایسا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تو حکومت کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ کسی سیاسی یا سماجی گروہ کی عوامی احتجاج میں شرکت پر پابندی عائد کرے؟

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج عوام کا بنیادی جمہوری حق ہے، کوئی ایسی رعایت نہیں جسے ریاست اپنی مرضی سے دے یا واپس لے۔ جب حکومتیں یہ طے کرنے لگیں کہ کون احتجاج میں شریک ہو سکتا ہے اور کون نہیں، تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ اور ایک نئی شکل کا مارشل لا ہے۔ ایسے اعلانات سوالات نہیں اٹھاتے بلکہ سچائی کو بے نقاب کرتے ہیں—کہ اس ملک میں جمہوریت محض ایک رسمی پردہ ہے، جبکہ اصل طاقت جبر، سنسرشپ اور خوف کے نظام کے پاس ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ ریاستی اداروں کو جواب دینا ہوگا کہ وہ بی وائی سی سے اتنا خوفزدہ کیوں ہیں۔ ایک ایسی تنظیم جس کی مرکزی قیادت ایک سال سے جھوٹے مقدمات میں قید ہے، جس کے کارکن چوتھے شیڈول، نیکٹا کی نگرانی، جعلی ایف آئی آرز، ہراسانی اور جبری اعترافات کا سامنا کرتے ہیں، اور جن کے خاندانوں کو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہےاس کے باوجود ریاست کا خوف کم نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ عورت مارچ جیسے پلیٹ فارم کو بھی اسی شرط پر اجازت دی جا رہی ہے کہ وہاں بی وائی سی کا کوئی فرد یا حمایتی موجود نہ ہو۔

بی وائی سی رہنما نے مزید کہا کہ یہ پابندی دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ بی وائی سی نے بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور ریاستی تشدد کے خلاف ایک مؤثر مزاحمت کھڑی کی ہے—ایسی مزاحمت جس سے ریاست خوفزدہ ہے۔ اگر ہماری آواز غیر مؤثر ہوتی تو ریاست عورت مارچ میں ہمارے ذکر سے بھی خوف نہ کھاتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ریاست بلوچوں کو خاموشی سے مٹانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، اور دوسری طرف بی وائی سی اس خاموش نسل کشی کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ بی وائی سی کو ہر فورم، ہر سڑک، ہر احتجاج اور ہر آواز سے الگ کر دیا جائے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبر ہمیشہ مزاحمت کو مضبوط کرتا ہے—اسے خاموش نہیں کرتا۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے مطابق عورت مارچ میں بی وائی سی پر پابندی ریاستی پالیسیوں کے اس تسلسل کا حصہ ہے جس کا مقصد بلوچ آوازوں کو ہر پلیٹ فارم سے دور کرنا ہے۔

Share This Article