سوراپ بارڈر پر نافذ کیے گئے نئے کاروباری طریقۂ کارتباہ کن ہے،بارڈر بیوپاریوں کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایرانی بارڈر سے وابستہ تیل کے بیوپاریوں نے آج تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مند سوراپ بارڈر پر نافذ کیے گئے نئے کاروباری طریقۂ کار کو مسترد کر دیا اور اسے روزگار کے متلاشی غریب طبقے کے لیے تباہ کن قرار دیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل بارڈر نمائندگان اور گاڑی مالکان نے کہا کہ وہ صحافی برادری کے مشکور ہیں جنہوں نے اس ہنگامی پریس کانفرنس کے لیے وقت دیا اور امید ظاہر کی کہ میڈیا حسبِ روایت ان کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچائے گا۔

انہوں نے آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) میجر جنرل بلال سرفراز خان اور ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایک سال کی بندش کے بعد پاک ایران بارڈر کو دوبارہ روزگار کے لیے بحال کیا، جس سے کیچ کے عوام کو معاشی سرگرمیوں کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بحالی پر گاڑی مالکان اور بارڈر کاروبار سے وابستہ افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی تاہم بدقسمتی سے مند سوراپ بارڈر پر جس نئے طریقۂ کار کے تحت کاروبار شروع کیا گیا ہے وہ عام لوگوں کے بجائے چند مخصوص افراد (مافیا) کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابقہ عبدوئی بارڈر پر کاروباری لین دین ایرانی تمن میں ہوتا تھا جس سے مقامی تاجروں کو بچت ہوتی تھی اور لاکھوں افراد کا روزگار اسی نظام سے وابستہ تھا مگر اب کاروبار کو ایرانی تمن کے بجائے پاکستانی روپے میں منتقل کر دیا گیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

تیل کے بیوپاریوں نے بتایا کہ پہلے ایرانی تمن کے حساب سے فی ڈرم (210 لیٹر) تیل تقریباً 6 ملین تمن میں دستیاب ہوتا تھا جب کہ اب وہی ڈرم پاکستانی روپے کے حساب سے تقریباً 12 ملین تمن میں پڑ رہا ہے یعنی ریٹ دوگنا ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی سے فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے اور ایسے حالات میں تیل کو تربت لا کر فروخت کرنا خسارے کے سوا کچھ نہیں جس کے نتیجے میں غریب گاڑی مالکان ایرانی بیوپاریوں کے مقروض ہو جائیں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) اور ڈپٹی کمشنر کیچ فوری طور پر اس نئے اور غیر منصفانہ کاروباری طریقۂ کار کو ختم کریں کیوں کہ بارڈر کراسنگ پوائنٹ کھولنے کا مقصد عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے نہ کہ چند مخصوص مافیا عناصر کو فائدہ پہنچانا۔

کاروباری طبقہ نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو وہ مافیا کے خلاف منظم تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

Share This Article