بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں تربت میں پاکستانی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے چوبیس جنوری بروز جمعہ کو قابض پاکستانی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرکے فورسز کو جانی و مالی نقصان سے دو چار کیا۔
انہوں نے کہا کہ تربت میں قائم مین کیمپ (اصغر گیٹ) پر آج باره بج کر پچاس منٹ پر سرمچاروں نے اے ون کے چھ گولے داغے جو نشانے پر لگے جس کی وجہ سے قابض فوجی اہلکاروںکو جانی و مالی نقصان پہنچا۔
بیان میں کہا گیا کہ حملے کے بعد سرمچار بہترین جنگی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اپنے محفوظ ٹھکانے پہنچ گئے جبکہ قابض فوجی اہلکاروں نے حواس باختہ ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی اور مختلف مقامات پر ناکہ لگا کے عام عوام کو زدو کوب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں کے کامیاب حملے پورے بلوچستان میں جاری ہیں جو ان کی زمین سے وابستگی اور محبت کا اظہار ہے اور قابض کے لئے بلوچستان سے انخلا کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آزاد بلوچستان کے حصول تک قابض کو نشانہ بناتی رہیگی۔