بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ظریف بلوچ کے حراستی قتل کیخلاف شہید فدا چوک میں دھرنا جاری ہے جبکہ پیر کو شٹرڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں پاکستانی فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر خواتین و بچوں کو تشدد اور انہیں کمروں میں بند کرکے ظریف بلوچ کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کیاتھا بعدازاں گھرکے نزدیک اس کی لاش برآمدہوئی تھی جسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
ورثا کا کہنا ہے کہ ظریف کو تشددکے ساتھ ساتھ زہر کاا نجکشن بھی لگایا گیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی تھی ۔
واقعہ کے ردعمل میں ورثا نے میت کو پوسٹ مارٹم کیلئے تربت شہر لے جانے کی کوشش کی لیکن فورسز نے تمپ سے تربت شہر جانے والے تمام راستے بند کرکے ورثا کو روکا اور میت کو اپنے تحویل میں لے لیا جس کے بعد ورثا نے آسیاباد کے مقام پر روڈ بلاک کرکے دھرنا دیا۔
ظریف بلوچ کی حراستی قتل کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ورثا کی حمایت میں تربت میں ڈی بلوچ کے مقام پر بھی سی پیک روڈ پر دھرنا دیدیاجس کے بعدانتظامیہ اور سیکورٹی فورسز نے ورثا کو میت کو تدفین کیلئے مجبور کیا گیا۔
آج تربت شہر میں دازن تمپ کے رہائشی مقتول ظریف بلوچ کے لواحقین نے شہید فدا احمد چوک پر دھرنا گاہ سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم بلوچ قوم اس وقت تاریخ کے اس موڑ سے گزر رہے ہیں جہاں اب ہم لاشیں تو اٹھا رہے ہیں لیکن تعزیت پر نہیں بیٹھ رہے، ہم اپنی روایتی پرس کی رسم نہیں نبھا پارہے ۔
انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ قلم کے وارث ہیں لکھیے گا کہ اب بلوچوں نے پرسہ رکھنا چھوڑ دیا ہے اب وہ اپنے لاشوں کے لیے سوال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جمعے کی شب ہمارے گھر تمپ پر ایف سی اہلکاروں نے چھاپا مار کر ظریف بلوچ کو جبری گمشدہ کردیا اور اگلے روز ویرانے میں انکی مسخ شدہ لاش پھینک دی۔ ہم اس لاش کو پوسٹ مارٹم کی غرض سے تربت لارہے تھے مگر ایف سے نے پھر سے تمپ بھر میں کرفیو نافذ کر کے راستے بند کر دیے اور گھنٹوں ہمیں اسی جگہ روکے رکھا۔ ہمارے میت تک تابوت تک پہنچانے نہیں چھوڑا، ہمیں انتہا درجے کا ہراساں کیا گیا، اور پھر مجبور ہوکر اپنے لکھ مراد انسان کو زمین کے امانت کر دیا اور خود آج یہاں اپنے قانونی حق کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں کہ ہمیں انصاف دے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بلوچ اس وقت پاکستان کے آئین و قانون کے تحت جبر کا شکار ہو رہے ہیں، ایف سی والوں کی درندگی ہم پر اس لیے اترتی ہے کہ وہ خود کو قانون کا پاسبان سمجھتے ہیں، وہ قانون جس میں طاقت ور کو طاقت ور اور کمزور کو کمزور کیا جارہا ہے۔ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ بھلے ہی بزور طاقت ہمارے پیاروں کو قتل کیا جاسکتا ہے، انہیں زبردستی دفنانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے مگر ہمیں احتجاج کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کل جب ہم نے اپنے پیارے کو دفنایا ہے تو انکے جسم کے زخم چیخ چیخ کر فوج کی درندگی کا اظہار کر رہے تھے، انکے جسم کو جلایا گیا تھا، زبان کاٹی گئی تھی، جسم نیل پڑ چکا تھا، ہم تصور کرتے ہیں کہ ہمارے زندہ انسان کو جب اس قدر درندگی سے ٹارچر کیا ہوگا تو کیا حالت ہوگی اس وقت؟ یہ درد ہمیں زندگی بھر سونے نہیں دیگا، یہ درد ہمیں فوج سے زندگی بھر کی نفرت کرنے کی درس دے گا، یہ فوج اپنے وردی میں انسان نہیں بس انسان نما جانور ہے، اور یہ پیغام ہم اپنے قوم کے گھر گھر میں پہنچائینگے۔
مقتول ظریف بلوچ کے ورثاکا کہنا تھا کہ ہم اس وقت تک یہاں احتجاج پر بیٹھے رہینگے جب تک ان تمام ایف سی والوں کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کی جائے گی۔ ہم اس احتجاج کو وسیع کرتے جائینگے۔ اس احتجاج کو وسیع کرتے ہوئے کل بروز پیر تربت میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دیتے ہیں ۔
انہوں نے آخر میں بلوچ عوام سے اپیل کی وہ اس احتجاج کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔