بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کا احتجاجی کیمپ 5650 دنوں سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ گذشتہ 5650 دنوں سے جاری ہے۔

امیرجماعت اسلامی بلوچستان و ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان، حاجی ناصر پلیزئی، آرگنائزر حق دو تحریک صادق فتح نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ لاپتہ افراد کے لواحقین تمام کٹھن سخت حالات کو طے کرتے ہوئے بازیابی کے عظیم مقصد کی جانب رواں اس کاروان میں ہزاروں بلوچ شھید اور ہزاروں قابض کی کال کوٹھڑیوں میں وطن کی شناخت کےلیے تشدد سہ رہے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ انسانی تاریخ اس امرکی گواہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ظلم جبرکےخلاف اٹھی حق کی آواز قتل وغارت ظلم جبر سے نہ دبایاجاسکا ہے اور نہ ہی ختم کیاجاسکا۔ ہمیشہ قابض ظالم نے مظلوم جہد کاروں کے خلاف تشدد جبری قبضہ کے ساتھ اُنھیں غلام رکھنے کےلیے اپنے تمام تر حربے اور وسائل کااستعمال کیاہے۔عین یہی صورت حال روزاول سے بلوچ کےساتھ بھی چلاآرہاہے۔پاکستان اپنی لاو لشکر کے ساتھ جبری قبضہ کے بعد سے آج تک اس غلامی کو تقویت دینے کےلیے فوجی آپریشنوں بلوچ نسل کشی مسخ لاشیں نیز تمام حربے استعمال کیےاور کررہےہیں۔

مگر ایک اہم سوال کہ سب سے بڑاحربہ جوکسی قوم کی غلامی کاسبب بنتاہےوہ کیاہے؟ تشدد ظلم نہیں ہرگز نہیں ہم اگر اپنی تاریخ اور دیگر غلام قوموں کی تاریخ کاجائزہ لیں توسب میں ایک شے صاف نظرآتی ہے اور وہ ہے ردِّ انقلابی قووتیں جوکسی بھی انقلاب کے سامنے رکاوٹ ہو وہ ردِانقلابی قوت کہلاتی ہیں۔

ماماقدیر بلوچ نے کہاکہ جبکہ قابض ریاست کاسب سے اہم اور موثر ہتھیار کسی قوم کو غلام بنائے رکھنا اپنی نظام کے دائرے میں لاناہوتاہے اور یہ اس صورت میں ممکن ہوتا کہ اسی مظلوم قوم کے اندر ایسے مراعات یافتہ آسائش پسند لوگوں کاانتخاب کرکے گروہوں یاسیاسی کروپ تشکیل دینا یاپہلے سے سیاسی پارٹیوں کو ریستی دائرے میں لاکر انہی کے ذریعے عوام کو قابض ریاست کے سسٹم کے ماتحت کراناہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article