بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتال کیمپ کو آج 5110 دن ہوگئے۔
پنجگور سے سیاسی اور سماجی کارکنان علیم شنبے بلوچ مجاہد بلوچ اختر بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
اس موقع پروی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ قابضین منصوبہ بندی کے تحت بلوچ آبادیوں پر آپریشن کا آغاز کرچکا ہے ریاست پاکستان نے بلوچستان میں اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے بلوچ نسل کشی کو اور تیز کردیا ہے اب قابض ریاست نے نہ صرف بلوچوں کو کھلے عام قتل کرنا شروع کردیا ہے بلکہ اپنے ان مکر وہ عزائم جواز بخشنے کے لئے منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈا بھی شروع کردیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ آبادیوں پر بمباری کرنے کے لئے جواز پیدا کرنا سب اسی پالسی شاخسانے ہیں کہ اب بلوچ نسل کشی کو تیز تر کرکے جدوجہد کو کمزور کرنے کی سعی کرنا ہے اپنے ان نسل کشی پالیسوں کے تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے گزشتہ دن تم سے دو نوجوانوں کو جبری اغوا کیا جن میں روف ولد مراد محمد اور پیر بخش بلوچ کو پنجگور کے علاقوں سے اس کے علاوہ مستونگ قلات کوہلوں ڈیرہ بگٹی بلوچستان کوئی جگہ یا علاقہ نہ ہو کہ بلوچ۔ نوجوانوں خاص کر تعلیم یافتہ طالب علموں کوجبری اغوا کر کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے سامراجی فورسز نے خضدار کے رہائشی نوجوان کو کوئٹہ اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیئے۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی فورسز بلوچ قومی جہدوجہد کی پذیرائی سے گھبرا کر بلوچستان فرقہ واریت مذہبی انتہاپسندی کو سامنے لا رہے ہیں تاکہ بلوچ عوام کی قومی جدوجہد کو کاونٹر کرنے کے لئے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف کاروائیوں کے بہانے بلوچ قومی تحریک کو کمزور کیا جاسکے لیکن دنیا اس بات سے بخوبی با علم ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی تشکیل کو سامراجی پاکستان اور اس کے ادارے کی کار ستانیاں رہی ہیں اب بلوچ آبادیوں پر آپریشن کی شدت میں اضافہ کیا جائیگا بلوچ خون بے دریغ بہایا جائے گ لیکن بارئہ نشاندہی کے باوجود انسانی حقوق کے علمبردار اداروں اور عالمی ذرائع ابلاغ کی اس سنجیدہ انسانی المیہ کو یکسر نظر انداز کرنا مظلوم محکم کے بابت ہمارے اجتماعی بے حسی کی نشاندہی کررہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے کوکھ سے جنم لینےوالی یہ دہشتگردی نا صرف بلوچ عوام کے لیے صعبوتیں لارہی ہے بلکہ اب یہ پوری دنیا میں پھیل کر تمام مہذب اقوام کے لئے وبال جان بن چکی ہے۔