بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5101 دن ہوگئے
بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5101 دن ہوگئے ۔
نیشنل پارٹی کے رہنما میر عبدالغفار قمبرانی، غلام فاروق، عبدالمنان سمیت دیگر لوگوں نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کہا کہ تحریکیں اُس وقت شروع ہوتی ہیں جب ظلم اور جبر کے بادل تھمنے کا نام نہیں لیتے ،بغیر جدجہد کے دنیا کا کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوئی ہے، جدجہد کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے، جدوجہد کامیاب اُس وقت ہوتی ہیں، جب اُس کے چلانے والے قیادت میں لیڈرشپ کی کوالٹی موجود ہوں اور ساتھ ہی قربانی دینے کا جذبہ ہو، جدجہد بغیر لہو سے کامیابی اپنی اپنی جگہ اسکی شروعات مشکل سے دنیا میں جدھر بھی تحریکیں چلی ہیں وہاں وہاں لاکھوں کی تعداد میں مظلوموں کا خون بہا شامل ہے۔ پاکستان میں فوج خفیہ ادارے مقتدر حکمران ہیں۔ بلوچ جبری لاپتہ افراد کی قربانیوں نے عالمی طاقتوں امریکہ اور اتحادیوں کی انکھیں بھی کھول دی ہیں۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ جبری لاپتہ افراد شہدا کے قربانیوں نے بلوچ قوم کے حوصلے بڑھائے ہیں ۔بلوچ اسیران شہدا صرف اپنے لواحقین کے نہیں رہے بلکہ انکے فکر کے وارث بلوچ قوم ہیں۔ جبری لاپتہ افراد شہدا کے خاندانوں سے بلوچ قوم کا رویہ والہانہ اور محبت بری ہے۔ اسیران کے لواحقین بلوچ دھرتی کے جس میں جاتے تو بلوچ قوم اُن سے محبت اور خلوص بلکہ عقیدت سے ملتے ہیں۔ اور اخلاق خلوص سے پیش اتے ہیں۔ تو اس لئے یہ غریب اور نادان لواحقین اپنے عزیزوں کے بارے میں پرامن جدجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ جبری لاپتہ افرادکے لواحقین صرف اپنے وسائل کے بل بھوتے پر گزارہ کر رہے ہیں۔ بلوچ اسیران کے لواحقین بہت ہی پراعزم اور پرامید ہیں اپنے عزیزوں پُرامن جدجہد پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر ایک چیز کی کمی کو بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ بلوچ پرامن جدجہد کی الگ الگ ڈھڑوں میں تقسیم پرسخت تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔