کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کا احتجاج 5088 دنوں سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور شہدائے بلوچستان کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے قائم وی بی ایم پی کی بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5088 دن ہوگئے۔

اظہار یکجہتی کرنے والوں میں نوشکی سے بی این پی کے سی سی ممبر خورشید جمالدینی پروفیشنل سیکرٹری میر نزیر احمد اور دیگر شامل تھے ۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ بقا کی تاریخ جب لکھی جائے گی تو اسکی دو واضح خانے ہونگے ایک خانے میں وہ حقیر بدنما نام آئیں گے کہ جو اپنی وزارتوں سے چپکے ہوئے ہیں ذاتی مفادات اور تعیش کے عوض عام بلوچوں کی حلالت کا باعث بنے انکے انسانیت سوز روئے بلوچوں پر گرتے ہوئے بموں کا بارود اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کا ایندہن بنے اور جنہوں نے ماتیں وطن کا سودا کیا اور دوسرے خانے میں اُن بیشمار گوہروں کے نام آئیں گے کہ جنہوں اپنی گل زمین کی محبت میں مصلحت کے بجائے غلامی کے خلاف لڑتے کہنے کو ترجیح دی اور جو مراعات تزلیل کو ٹکھرا کر مصائب و مشکلات و خار سے راہ چنتے رہے۔

وہ ہمیشہ ذندہ رہیں گے مگر ساتھ میں ایک تیسرا خانہ بھی ہوگا کہ جو جو غلاضت منافقت کی سے لکھی جائے گی جس میں دوہرے معیار رکھنے والے نام نہاد قوم پرست سیاست دانوں کے نام لکھے جائیں گے کہ جو بلوچ قومی بقاۂ کی تحریک کے خدوخال، عملی راستوں کو بھول بھلیوں میں غرق کرنے کا سبب بنے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ جسم اور نظریہ فروشی میں نظریے بیچنے والے اصل طوائف ہیں۔ انسانی تاریخ کا بنیادی مسلہ یہی ہے کہ اس کی اصل فطرتی افاتی رنگوں سے مزین اذاد نظریے کو ہردور میں طاقتور قابضین نے مرض غلامی کے ہاتھوں فروخت کرنے کا جرم کیا ہے جسکی وجہ سے آج پوری انسانیت کئی قسم کے غلامانہ امراض میں مقید ہیں۔ جن میں سب سے خطرناک غلامی بے حسی ہے اور دوسرے انسانوں کی پرامن جدجہد کو سلب کرنے کی مذموم خواہش ہے۔ جس میں بیشتر بالادست اقوام مقید ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment