کوئٹہ : بلوچ لاپتہ افراد کا احتجاجی کیمپ جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ادرلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 5079 دن مکمل ہوگئے۔

بالگتر سے سیاسی سماجی کارکنان عبداللہ بلوچ، محمد ایوب بلوچ، سبزل بلوچ نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ تمام بلوچ قومی بقاء اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے پُرامن جدوجہد عملی طور پر شریک ہوجائیں، گلی کوچوں میں چھپنا چھوڑ دیں۔حالات ٹھیک ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا لوگ جان لیں کہ حالات مزید خراب ہونگے۔ بلوچستان کے جو موجودہ حالات ہیں پاکستانی حاکم جو کچھ بلوچوں کے ساتھ کررہے ہیں یہ ظلم کی انتہا ہے ان مظالم اور بمباری کو خاموشی سے دیکھنے والے ہوش سے کام لیں اور اپنی اس خاموشی کو توڑ کر پر امن جدوجہد میں بلوچوں کی صفوں میں شامل ہوجاہیں اور جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے قافلے کو رواں دواں رکھیں۔کیونکہ یہ پُر امن جدوجہد تمام بلوچوں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ پُرامن جدوجہد میں کسی کو دعوت نہیں دی جاتی بلکہ آدمی کو خود اس میں کودنا پڑتا ہے ۔مگر میں تمام خاموش بلوچوں کو آواز دیتا ہوں کہ وہ بلوچ قومی بقاء کی اس پُرامن جدوجہد میں شریک ہوجاہیں۔اور بلوچوں کے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں۔اس لیے دیگر بلوچوں کو جو اس وقت بھی خاموش ہیں۔غلامی کے حصار سے نکل کر پُرامن جدوجہد کرنے والے بلوچوں کی صفوں میں شامل ہوجاہیں۔جو لوگ ادھر اُدھر گلیوں میں چھپ رہے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ حالات ٹھیک ہوجاہیں گےان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ حالات ٹھیک نہیں ہے بلکہ مزید خراب ہونگے اس لیے تمام بلوچوں کو چاہیے کہ وہ بلوچ قومی بقاء کی جنگ جاری ہے شریک ہوجاہیں تاکہ اس راہ میں جن بلوچوں نے قربانیاں دی ہیں وہ راہیگاں نہ جاہیں۔

ماما قدیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداروں نے ایک سازش کے طور پر بلوچ ڈیتھ اسکواڈ بنا کر پُرامن جدوجہد کرنے والے بلوچوں کے مدمقابل کردیا ہے تاکہ دونوں اطراف سے محکوم اقوام کے افراد کی جانوں کا ضیاع ہو۔اس لیے ہر محکوم اقوام سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس سازش کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment