تربت سے فورسز ہاتھوں 3 نوجوان جبراً لاپتہ ، تمپ سے لاش برآمد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے پاکستانی سیکورٹی اداروں نے تین نوجوانوں کو حراست میں لیکرجبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔

لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت عبداللہ، شے مرید مختار اور فتح معیارکے ناموں سے ہوگئی ۔

نوجوانوں کواوسیز کالونی ائیرپورٹ روڈ سے لاپتہ کیا گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق تینوں نوجوانوں میںایک مرکزی جمعیت اہل حدیث کیچ کے نائب امیر و امام مسجد مرکز اہل حدیث تعلیمی چوک تربت مولانا عبدالرحمن تائب کا بیٹا ،دوسرا بھتیجا اور تیسرا رشتہ دارہے ۔

فیملی کا کہناہے کہ انہیں سیکورٹی ادارے نے گزشتہ روز اٹھالیاہے، تینوں طالب علم ہیں جن میں 15 سالہ عبداللہ ولدیت عبدالرحمن ماڈل اسکول تربت کے طالبعلم ہیں اور میٹرک کا امتحان اسی سال دے چکے ہیں۔

شے مرید ولدیت مختار سکنہ گلی بلیدہ ساچ اسکول میں زیر تعلیم ہیں ۔ان کی عمر 13سال ہے جبکہ فتح ولد معیار سکنہ چیئرمین بازار کوچہ بلیدہ بھی ساچ اسکول گلی بلیدہ میں زیرتعلیم ہیں اور ان کی عمر 10سال ہے۔

لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کے خاندان کے مطابق اگر وہ کسی منفی سرگرمی میں ملوث تھے تو لاپتہ کرنے کے بجائے ہمیں بطور سرپرست اطلاع دی جاتی توہم انہیں اداروں کے سامنے پیش کردیتے ۔تینوں کمسن ہیں اور ان کی عمریں پندرہ سال سے زیادہ نہیں ہیں۔ انہیں اس طرح اغوا کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ لہذا انہیں فوری طورپر رہا کرکے خاندان کو اذیت سے بچایا جائے۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں چار دن پرانی لاش برآمدہوئی ہے۔

تربت پولیس کے مطابق تمپ میں زبیدہ جلال روڈ پر لیویز فورس نے مقامی لوگوں کی اطلاع کے بعد ایک چار روز پرانی نعش برآمد کی ہے۔

نعش مسخ شدہ حالت میں ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کردی گئی ہے۔

لاش کی شناخت تا حال نہ ہوسکی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment