بلوچوں پہ ریاستی جبر کی داستان طویل اور دکھ بھری ہے، ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5069 دن ہوگئے۔

شال سے سیاسی اور سماجی کارکنان در محمد ، امام بخش اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ قابض اور طاقتور کے پاس طاقت استعمال کرنے کی قدرت ہے جسے وہ بھرپور استعمال میں لا رہا ہے، بلوچوں پہ ریاستی جبر کی داستان طویل اور دکھ بھری ہے، لیکن بلوچ نے بھی پر امن مزاحمت جاری رکھا ہے، ہر قسم کی جبر کے خلاف کھڑے رہے ہیں، جب باپ شہید ہوتا ہے تو اسکا بیٹا اور جب اس اس جبر کے خلاف جدوجہد میں بیٹا شہید ہوتا ہے تو باپ میدان میں آجاتا ہے یہ جدوجہد طویل ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آج پاکستان کی قوت اس زمانے کے بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے، بلوچستان میں جبر کی تاریخ بھی لمبی ہے، بلوچ قوم پہ تاریخ کا بدترین انسانی حقوق کے پائمالیاں پاکستانی ریاست کر رہے ہیں، بلوچ نسل کشی میں سینکڑوں مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی ہیں اور اب تک ہزاروں جبری لاپتہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ طالبعلم رہنما اور بی ایس او آزاد کے سابقہ وائس چیئرمین زاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو 14 سال کا طویل عرصہ اسی 8جون کو مکمل ہو رہا ہے، اسکی والدہ گزشتہ چودہ سالوں سے اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں انہوں نے اسی دن احتجاج کیلئے کال دیئے ہیں، جس میں ہم تمام انسان دوست خواتین اور حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ ساتھ دیں، ذاکر مجید سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment