کراچی میں بلوچ لاپتہ افراد کا احتجاجی کیمپ جاری، 4951 دن مکمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے لواحقین کااحتجاجی کیمپ جاری ہے جسے 4951 دن مکمل ہوگئے ہیں۔

سیاسی اور سماجی کارکن عبدالمنان بلوچ، وائس فار سندھ مسنگ پرسنز کے کنوینر سورٹھ سمیت دیگر مرد اور خواتین نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔

اس موقع پروی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفود سے مخاطب ہوکر کہا کہ سندھی عوام کی حالت زار تو یہ ہے کہ ایک سال میں اتنے لوگ کسی جنگ میں بھی مرتے ہیں جتنی بھوک اور افلاس کی وجہ سے مر رہے ہیں اس ظلم و زیادتی کے خلاف جب اس دھرتی کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے وطن کی بقا کے لیے آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے وجود کو بچانے کے لیے مزاحمت کرتے ہیں تو خفیہ ادارے انہیں جبری لاپتہ کرکے غیر انسانی عقوبت خانوں میں بند کرکے بعد میں ان کی مسخ شدہ جلی کچلی اور گولیوں سے چھلنی لاشوں کو سندھ کے عوام کو تحفے میں دیا جارہا ہے ۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ تاریخ کی سب سے بڑے بددیانتی کرپشن گناہ اور نا انصافی ہوگی کہ سندھی بلوچ پشتون قوم جیسی پر امن انسانی تہذیب کی بنیاد رکھنے والی ام التہذیب کو بنیاد پرستوں کی ریاست کے عقوبت خانوں میں مزید غلام رکھا جائے پاکستانی ریاست حقیقت میں سامراجیت کا آکھاڑا بنی ہوئی ہے اس میں سندھی بلوچ پشتون مظلوم اقوام مسلسل پاکستان بننے سے لیکر اب تک خوں چوسا جارہاہے اس حقیقت سے کوئی بھی باضمیر انسان منہ نہیں پھیر سکتا یہ ریاست پوری دنیا اور اس خطے کے لیے سنگین نفسیاتی روحانی عزاب اور مصیبت بنی رہی ہے ۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ میں ساری دنیا کے مہذب ممالک اور اداروں کو اپیل کرتا ہوں کہ مظلوم اقوام کی گردنوں سے غلامی کی زنجیریں اتار کر اب اس لوٹ کھسوٹ اور استحصال کا خاتمہ لائیں کیونکہ یہ دور قوموں کی جدید بین الاقوامیت اعلیٰ اقدار اور بیوپار کی عالمگیریت کا دور ہے جو عالمگیریت تب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتی جب تک پر امن منڈیاں قائم نہیں ہو پاتیں جب تک تیسری دنیا میں قومی غلاموں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ہے

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment