بلوچستان کے خضدار کے علاقے گریشگ سے 31دسمبر2022کوپاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبراً لاپتہ ہونے والے 2بلوچ طالب علم سراج نور عارف حمل رہا ہوکر گھر پہنچ گئے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئر مین نصر اللہ بلوچ نے مائیکر بلاگنگ سائٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں دونوں طالب علموں کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔
دونوں طالب علم اپنی چھٹیاں گزارنے کیلئے اپنے آبائی علاقے میں آئے تھے، جن کو گریشک پوگی گواراست کے مقام پر فورسز نے جبراًلاپتہ کیاتھا۔
سراج نور سرگودھا یونیورسٹی میں Law ڈپارٹمنٹ میں 6 سمسٹر کا طالب علم ہے جبکہ محمد عارف نے بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے 2022میں کلیئر کیا ہے۔
محمد عارف جو کہ سی ایس ایس (CSS) کی تیاری کررہا تھا۔ ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھ رہا تھا لیکن افسوس کہ تعلیم دشمن فورسزنے کو ہضم نہیں ہوا اور اسے گذشتہ شب سراج نور کے ساتھ لاپتہ کردیا گیا۔
دونوں کی بازیابی کیلئے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں نے روڈ بلاک احتجاج بھی کیا تھا۔