بلوچ لاپتہ افراد کی پرامن وطویل احتجاج کو ختم کروانیکی کوشش کی جارہی ہے، ماماقدیر

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4906 دن مکمل ہوگئے ہیں۔

بی ایس او کے مرکزی وائس چیئرمین جیئند بلوچ، جوائنٹ سیکرٹری شیرباز بلوچ، میروائس بلوچ،سازین بلوچ اور سیاسی و سماجی کارکن عمر وزیر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے کہا کہ آج دنیا پر یہ واضح کردیا ہے کہ بلوچ عوام اپنے انسانی قومی حقوق کی خاطر پرامن جدوجہد کو اپنا قومی و انسانی فریضہ سمجھتے ہیں پاکستانی ادارے بلوچ قومی تحریک کو ختم کرنے کی کوشش میں بلوچ سیاسی کارکنون دانشوروں طلبہ دیگر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کا قتل عام اور ہزاروں فرزندوں کو جبری طور اغوا کرکے لاپتہ کرتا رہا ہے مگر وی بی ایم پی کے پرامن جدو جہد روزبروز بلوچ عوام اور عالمی دنیا میں زیادہ سے زیادہ پزیرائی حاصل کرتی رہی ہے جس سے حواس باختہ ہوکر پاکستانی ادارے اور اسکے گماشتے نت نئے حربے استعمال کرتے ہوئے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی تگ دو میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے دھمکیاں دیکر جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کی جانے والی پرامن طویل احتجاج کو ختم کروانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے نے جمہوری پرامن جدوجہد سے خوفزدہ ہیں کیونکہ ساٹھ ہزار بلوچ فرزندوں کی جبری طور پر اغواہ کرکے لاپتہ کرنے میں ملوث پاکستانی فورسز اپنی گھناؤنی حرکتوں کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ماماقدیربلوچ نے کہاکہ اس جمہوری پرامن تاریخی احتجاج پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے عیال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہیں اور جمہوری اور پرامن اھتجاج کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے اسکے علاوہ مستونگ میں بھی فورسز نے مذہبی گروہوں کے خلاف کرنے کا بہانہ کرکے کئی بیگناہ بلوچوں کو اغواہ کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمی جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کی جانے والی اس تاریخ جدوجہد کو پاکستانی فورسز کی جانب سے بزور طاقت روکنے کی کوشش کا نوٹس لیکر جمہوری پرامن جدوجہد کی حوصلہ افزاء کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Share This Article
Leave a Comment