بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراداور شہدا کے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے اب تک 4889 دن ہو گئے ہیں۔
بی ایس او کے سینئر وائس چیئرمین محمد اشرف بلوچ، جنرل سیکریٹری ماما عظیم بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکرلواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہو کر کہا کہ بلوچ دھرتی پر پاکستان اپنی لڑکھڑاتی قبضہ گیریت کا سکت کھوتا جا رہا ہے بلوچ وطن پر جاری جمہوری سیاسی جدوجہد کی بے دریغ عوامی حمایت نوآبادیاتی ڈھانچے کی حالات زار اور بلوچستان بھر میں سیاسی شعوری سرگرمیوں میں اضافے جہاں ریاستی عملدادری کو درپیش چیلنجز کے سبب انہیں معاشی زیوں حالی اور شدید نوانائی بحران کا سامنا ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا ہے کہ بلوچ پرامن جدجہد کا جس کا سیاسی شعور سے بلوچ خواتین کی بنیادی ذمہ داری حقوق کا تعین کیا اور انہیں برابر کردار ادا کرنے سے متعلق ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور پرامن جدوجہد میں شامل ہونے کا حوصلہ دیا جس کی واضع مثال آج رہنما بانک کریمہ بلوچ، فریدہ بلوچ بانک حوران بلوچ اور ہزاروں دیگر بلوچ خواتین کی پرامن جدوجہد میں عملی کردار ہے دوسری طرف غیر مذہب انسانیت انسانی حق کا دشمن پاکستان افواج خفیہ ادارے بلوچ قوم پر جاریت شدت کے ساتھ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دس 10 دسمبر انسانی حقوق کا عالمی دن یا آٹھ مارچ یوم ء خواتین پاکستان انہیں خاطر میں لانے کے بجائے روایتی سرکشی کے تحت اپنی سامراجیت استحاریت کو برقرار رکھا ہوا جس کی تازہ مثال خواتین بچوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانا ہے جبکہ شہید گلناز مری جیسی درجنوں بلوچ خواتین پاکستانی فورسزز کے ہاتھوں شہید اور زرینہ مری کی طرح کئی بلوچ عورتیں تاحال دشمن کی گمنام عقوبت خانوں میں درندگی کا شکار ہیں۔
انہوں مزید کہا کہ 8 مارچ کو ہر سال دنیا بھر میں عالمی یوم ء خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد خواتین کو جنسی برابری معاشرت میں مکمل انسانیت کے درجے کے تحت برابر طاقت اختیارات کی فراہمی فرض شناسی اور ان کی بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی شامل ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ تنگ نظر مذہبی فرسودہ قباہلی معاشرے میں تاریخ میں چند ایک ناموں کے۔