امریکی وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات کے حاصل ہونے والے نتائج میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر کے حکمران رپبلکن پارٹی کو تاریخی شکست سے دوچار کر دیا ہے۔
ابتدائی و پیش رفتہ نتائج کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان میں 218 کی مطلوبہ سادہ اکثریت کا ہندسہ عبور کر کے 228 سے زائد نشستوں پر برتری و کامیابی حاصل کر لی ہے، جبکہ رپبلکنز کو شدید سبکی کا سامنا ہے۔ سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس نے اپنی نشستوں کی تعداد 51 تک پہنچا کر سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ٹیکسٹاس، کینساس، آئیووا اور شمالی کیرولائنا جیسی روایتی رپبلکن ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس نے اپ سیٹ کامیابیاں حاصل کر کے دہائیوں کا جمود توڑ دیا ہے۔
انتخابی نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نتائج کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ فاکس نیوز اور نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا:
"میں ان انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔”
صدر ٹرمپ نے نتائج کا دفاع کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر موقف اختیار کیا کہ:
"میں خود بیلٹ پیپر پر موجود نہیں تھا، اسی لیے ووٹرز کی بڑی تعداد باہر نہیں نکل سکی۔ اگر میں خود امیدوار کے طور پر بیلٹ پر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے فاتح رہتے۔”
صدر ٹرمپ نے انتخابات میں رپبلکنز کی ناکامی کا سبب بتاتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایران تنازع اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اس پر گہرا اثر پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"رپبلکنز کے کامیاب نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ایران کا تنازع ہے۔ عوام شاید پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آنے والے قلیل مدتی معاشی نتائج بھگتنے کے لیے تیار نہیں تھے۔”
ڈیموکریٹس کی نمائندہ کامیابی کے بعد وائٹ ہاؤس کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر صدر ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ پیغام جاری کیا گیا: ’توجہ رہے، ٹرمپ اب بھی آپ کے صدر ہیں۔‘
مستقبل کی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کو ان کی کارکردگی پر سراہتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، خصوصاً امیگریشن کے معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ:
"اگر ڈیموکریٹس کی جانب سے احمقانہ قانون سازی کے مسودے بھیجے گئے تو میں انہیں ویٹو کر دوں گا۔”
صدر ٹرمپ نے مزید واضح کیا کہ فی الحال ان کا اپنی کابینہ میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔