عبدالرحمن مری کی 2015 سے جبری گمشدگی باعث تشویش، بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

عبدالرحمن مری ولد محمد بخش کے لواحقین نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) سے رابطہ کرکے بتایا ہے کہ عبدالرحمن مری 13 جنوری 2015 سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔

لواحقین کے مطابق، 13 جنوری 2015 کو صبح تقریباً 9 بجے عبدالرحمن مری کو ہزار گنجی مری کیمپ، کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا۔ انہیں ایک دن تک سریاب تھانے میں رکھا گیا، جہاں بعد ازاں ذاتی مچلکے پر رہا کردیا گیا۔ تاہم رہائی کے اگلے روز انہیں دوبارہ تفتیش کے لیے فون کال کے ذریعے سریاب تھانے بلایا گیا۔ جب وہ تھانے پہنچے تو انہیں مزید دو روز تک حراست میں رکھا گیا، جس کے بعد وہ اسی تھانے سے لاپتہ ہوگئے۔

لواحقین کے مطابق، اس واقعے کے بعد سے آج تک عبدالرحمن مری کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی خاندان کو ان کی خیریت اور موجودگی سے آگاہ کیا گیا، جس کی وجہ سے اہلِ خانہ شدید ذہنی کرب اور اذیت کا شکار ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز مطالبہ کرتی ہے کہ عبدالرحمن مری کی جبری گمشدگی کے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، انہیں فوری طور پر بازیاب کرکے اہلِ خانہ کے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین و قانون کے مطابق مجاز عدالت میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں، جبکہ ان کی گمشدگی کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Share This Article