9 روز کے دوران 25 آپریشنز، پاکستانی فوج و ڈیتھ اسکواڈ کے 40 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے،بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
11 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں 9 روز کے دوران تنظیم کے 25 آپریشنز میں پاکستانی فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے 40 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 26 اکتوبر سے 3 نومبر 2026 کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فیلڈ کارروائیوں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے تحت قابض پاکستانی فوج، اس کی ملٹری انٹیلی جنس اور ڈیتھ اسکواڈز پر 25 سے زائد شدید حملے کیئے، جن میں دشمن فوج کو بھاری جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا گیا۔ ان 9 روز کی کاروائیوں کے دوران قابض فورسز و ڈیتھ اسکواڈز کے 40 سے زائد اہلکار و کارندے ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے، اور دشمن کی متعدد فوجی و لاجسٹک گاڑیاں تباہ کی گئیں۔

کارروائیوں کی تفصیلات تاریخ کی ترتیب سے درج ذیل ہیں۔

26 اکتوبر:

دالبندین کے علاقے کوہِ تران کے مقام پر بی ایل اے کی انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ کی بروقت معلومات کی بنا پر ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن سرانجام دیا گیا۔ سرمچاروں نے آئی ای ڈی دھماکے کے ذریعے قابض پاکستانی فوج کے اہم کارندے شاہجہان عرف شاہو کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے بعد باقی ڈیتھ اسکواڈ کارندوں پر مسلح حملہ کیا گیا۔ اس کارروائی میں شاہجہان شاہو سمیت 3 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ہلاک شدہ شاہجہان شاہو طویل عرصے سے دالبندین اور ملحقہ علاقوں میں فوجی جارحیتوں، مخبری، مقامی آلہ کاروں کی بھرتی اور مسلح ڈیتھ اسکواڈ کے گروہ کی سرپرستی میں براہِ راست ملوث تھا۔

اسی روز خاران شہر کے قریب بابِ خاران کے مقام پر سرمچاروں نے زیرِ تعمیر ڈی سی کمپلیکس پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا اور بعد ازاں پیش قدمی کی کوشش کرنے والے قابض فورسز کے دستوں کو نشانہ بنا کر جانی ومالی نقصان پہنچایا۔

مزید برآں خضدار کے علاقے کرخ میں سرمچاروں نے ڈی آئی جی خضدار رینج عمران قریشی، ایس ایس پی خضدار اور قابض فوج، سی ٹی ڈی و اے ٹی ایف کی 30 سے زائد گاڑیوں کے مشترکہ قافلے پر گھات لگا کر مسلح حملہ کیا۔ شدید جھڑپوں کے نتیجے میں قابض فورسز کے 9 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ حواس باختہ فورسز اپنے ہلاک اہلکاروں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئیں۔ حملے میں دشمن کی 3 گاڑیاں مکمل طور پر ناکارہ ہو گئیں۔ قبل ازیں، اتوار کی شام 6 بجے سے صبح تک کوئٹہ کراچی تجارتی شاہراہ پر سرمچاروں نے مکمل ناکہ بندی برقرار رکھتے ہوئے اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔

اسی روز نوشکی کے علاقے احمد وال میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا۔

27 اکتوبر:

تربت کے علاقے گیبن میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ حملے میں دشمن کی 2 گاڑیاں براہِ راست زد میں آئیں، جس کے نتیجے میں 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

دریں اثناء ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک کنرک میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنایا۔ اسی روز نوشکی کے علاقے زرین جنگل کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے لیئے بھیجی جانے والی سپلائی گاڑی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

28 اکتوبر:

بسیمہ کے علاقے ساجد کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے پر مسلح حملہ کیا، جس میں دشمن کے 4 اہلکار موقع پر ہلاک اور کم از کم 7 شدید زخمی ہو گئے۔

اسی دوران خاران کے علاقے برشونکی میں قابض فوج کے ایک اور قافلے کو مسلح حملے میں نشانہ بنا کر شدید مالی وجانی نقصان پہنچایا گیا۔

مزید برآں پنجگور کے علاقے گوارگو میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے میں شامل گاڑی کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا، جس میں 1 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

اسی شب گوادر شہر میں گھٹی ڈور کے مقام پر سرمچاروں نے ملٹری انٹیلی جنس ایم آئی کے اہم کارندے رانا محمد احمد سکنہ لاہور، پنجاب کو مسلح حملے میں ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندہ بھیس بدل کر قابض فوج کے لیئے مخبری اور سہولت کاری میں ملوث تھا۔

اسی روز تربت کے علاقے نودز میں سرمچاروں نے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان کی گاڑی پر مسلح حملہ کیا، جس سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور اس میں سوار کارندے زخمی ہوئے۔

30 اکتوبر:

بسیمہ کے علاقے درگ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے زیرِ استعمال ایک خالی چوکی کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

دریں اثناء پسنی میں زیرو پوائنٹ کے مقام پر قابض فوج کی جانب سے ایک ہوٹل پر سیکیورٹی مانیٹرنگ کے لیئے نصب کیئے گئے خفیہ کیمروں کو سرمچاروں نے تباہ کردیا۔

اسی روز ضلع چاغی میں دالبندین اور یک مچ کے درمیان مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض فوج کے لیئے راشن اور ضروری سامان لے جانے والی سپلائی گاڑی کو ضبط کرلیا۔

علاوہ ازیں کیچ کے علاقے ہوشاپ گونڈسرین کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔

31 اکتوبر:

چاغی میں کوئٹہ تفتان تجارتی روٹ پر چہتر کے مقام پر سرمچاروں نے معاشی ناکہ بندی کے تحت 2 تجارتی گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا۔

مزید برآں خاران کے علاقے مسکان قلات میں سرمچاروں نے پولیس تھانے پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے تمام اہلکاروں کو حراست میں لیا اور ان کا اسلحہ و تفتیشی سامان ضبط کرلیا، بعد ازاں تھانے کی عمارت کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر تباہ کردیا گیا۔

1 نومبر:

خاران کے علاقے لجے وگرد ونواح میں قابض فوج نے وسیع پیمانے پر پیش قدمی اور فوجی جارحیت کا آغاز کیا۔ سرمچاروں نے منظم حکمتِ عملی کے تحت دشمن کے پیش قدمی کرنے والے دستوں کو مختلف مقامات پر گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ قابض فوج کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکے میں تباہ کرنے کے بعد علاقے میں 3 مختلف مقامات پر 5 گھنٹوں سے زائد شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ ان حملوں میں قابض فوج کے 8 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اگلے روز اسی علاقے میں قابض فوج کی ایک اور گاڑی کو دھماکے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد قابض فورسز پسپائی پر مجبور ہوگئیں۔

2 نومبر:

نوشکی کے علاقے احمد وال میں قابض فوج کے پیدل اہلکاروں اور گاڑیوں پر سرمچاروں نے گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسی مقام پر 3 روز قبل ایک اور کارروائی کے دوران قابض پاکستانی فوج کے ٹرکوں کے قافلے پر کیئے گئے شدید حملے میں 2 اہلکار ہلاک، متعدد زخمی اور 1 ملٹری ٹرک تباہ ہوا تھا۔

اسی روز مستونگ میں مدینہ ہوٹل کے قریب مرکزی شاہراہ پر قابض پاکستانی فوج کی گاڑیوں کے قافلے کو مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے 4 سے زائد اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

علاوہ ازیں کوئٹہ تفتان تجارتی روٹ پر سرمچاروں نے ناکہ بندی کی اور ایک تجارتی گاڑی کو نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا۔

3 نومبر:

منگل کی شب خاران کے علاقے نوروز قلات کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا، جبکہ اسی روز صبح کے وقت خاران کے مقام زومی میں دشمن فوج کے قافلے پر مسلح حملے میں کم از کم 3 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

مزید برآں خاران کے علاقے روتینکو میں سرمچاروں نے قابض فوج کی چیک پوسٹ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر دشمن فورسز کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ وطن کی دفاع کی جنگ کے دوران، 20 اکتوبر کو قلات کے علاقے رودینجو میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں بی ایل اے کے 4 سرمچار فرید عرف آبیان، منیر عرف نورا، شاہ زیب عرف احسان اور سنگت جلیل بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے۔ اس کے علاوہ 24 اکتوبر کو قلات کے علاقے منگچر چوٹانک کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران سنگت اورنگ زیب عرف آصف نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ اسی تاریخ کو سوراب کے علاقے گدر میں قابض فورسز کے ساتھ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی طویل اور خونریز جھڑپ میں بی ایل اے کے 2 سرمچار نعمان جمالدینی عرف کامریڈ سمیر اور پرویز محمد حسنی عرف قادر دشمن سےآخری سانس تک لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔

آخر میں جیئند بلوچ نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان تمام شہداء کی عظیم قربانیوں کو سرخ سلام پیش کرتی ہے اور ان کے ارمانوں یعنی آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام تک اپنی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھنے کا اعادہ کرتی ہے۔

Share This Article