بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر، ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ، کو دس، دس سال قید کی سزا سنایا جانا انتہائی تشویش ناک ہے اور اس کی بھرپور مذمت کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایمان مزاری محض ایک وکیل نہیں بلکہ وہ بے آواز لوگوں کی آواز بنی ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی پامالیوں کے متاثرین، جبری گمشدگیوں کا شکار افراد کے اہلِ خانہ، سیاسی قیدیوں اور مظلوم قوموں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔
انہوں نے ہمیشہ بلوچ عوام، بالخصوص اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے خلاف جدوجہد کرنے والے خاندانوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ ایسے وقت میں جب بہت سے لوگ ناانصافی کے سامنے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، ایمان مزاری اُن لوگوں کے ساتھ کھڑی رہیں جن کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ ان کی جرأت، حوصلے اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کو جرم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ہم ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔انسانی حقوق کا دفاع کوئی جرم نہیں۔ لاپتہ افراد اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کو کبھی بھی جرم نہیں بنایا جانا چاہیے۔