سنگرنیوز خصوصی رپورٹ
بلوچستان میں مسلسل حملوں کے بعد پاکستانی فوج دفاعی پوزیشن میں آ چکی ہے، جہاں بلوچ آزادی پسند تنظیموں سے براہِ راست مقابلے کے بجائے ریاست کی جانب سے مقامی آبادی کے بنیادی انفراسٹرکچر، معاشی ذرائع اور صدیوں سے آباد زمینوں پر تباہی پھیلانے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے کی حالیہ کڑی ضلع مستونگ کا سرسبز و شاداب علاقہ کھڈ کوچہ ہے، جہاں مسلح حملوں کے ردِعمل میں پوری آبادی کو گھروں سے بے دخل کرنے اور انگور و سیب کے باغات کو ختم کرنے کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا اجتماعی سزا کا اعلان:
جمعہ کے روز سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کھڈ کوچہ کے زمینداروں اور عوام کو اجتماعی سزا دینے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مستونگ میں نجی جائیدادوں یا انگور کے باغات کی حدود سے فورسز یا وزیر داخلہ کے قافلوں پر حملے ہوئے، تو باغات کے مالکان کو بھی "سہولت کار” تصور کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ان نجی باغات کو ختم کرنے اور آبادی کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ اگرچہ سرفراز بگٹی نے کھلی تقریر میں جبری بے دخلی کے الفاظ سے گریز کیا، تاہم علاقائی ذرائع اور نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق علاقہ مکینوں کو گھر بار خالی کرنے کے باقاعدہ نوٹسز و حکم نامے موصول ہو چکے ہیں۔
کھڈ کوچہ: 50 ہزار انسانوں کا مسکن اور معاشی تباہی:
نیشنل پارٹی کے رہنما اسلم بلوچ کے مطابق کھڈ کوچہ تقریباً 50 ہزار نفوس پر مشتمل ایک تاریخی اور سرسبز و شاداب وادی ہے۔
مسلسل کرفیو کے باعث ٹیوب ویلز بند ہیں، جس سے 30 سالوں کی سخت محنت سے تیار کیے گئے باغات خشک ہو رہے ہیں۔ اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور کڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔
فورسز اور مسلح تنظیموں کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں عام شہری معاشی اور سماجی طور پر اپاہج ہو کر رہ گئے ہیں۔ حکومتی نوٹسز کے بعد مریض، خواتین اور بچے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنے آباؤ اجداد کی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
اسلم بلوچ نے زور دیا کہ پوری آبادی نہ تو دہشت گرد ہے اور نہ ہی سہولت کار، لہٰذا حکومت انہیں شہری تسلیم کرتے ہوئے انسانی حقوق کا پاس رکھے۔
صدیوں پر محیط تاریخ اور ماحولیاتی بحران پر انتباہ:
بلوچستان گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے مرکزی چیئرمین حاجی محمد انور شاہوانی نے اس فیصلے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کھڈ کوچہ کے باغات صرف سیب یا انگور کے درخت نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی اور صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
ہر درخت کے پیچھے ایک خاندان کا خون، پسینہ اور تاریخ پنہاں ہے۔ بلوچستان میں جاری شدید قحط سالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے دور میں ان درختوں کا کٹااؤ علاقے کے درجہ حرارت میں اضافے اور زیرِ زمین پانی کے مزید گرنے کا باعث بنے گا۔
انہوں نے حکومت سے ڈرپ ایریگیشن اور سولر سسٹمز جیسے جدید وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس زمینداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور سرسبز کھڈ کوچہ کو صحرا میں تبدیل کرنے کی حکومتی کوشش کی ہر سطح پر مخالفت کرے گی۔
اجتماعی سزا: تاریخ کی تلخ دہرائی:
بلوچستان میں فورسز پر حملوں کی پاداش میں عوام کے معاشی ذرائع اور نباتات کو تباہ کرنا کوئی نیا عمل نہیں ہے۔
ماضی میں بھی بلوچستان کے متعدد علاقوں میں دفاعی پوزیشن میں گھری فوج پر حملوں کے بعد "پیش” (چٹائی اور دیگر گھریلو اشیاء بنانے والے مقامی پودے) کے پورے جنگلات اور فصلوں کو یہ کہہ کر کاٹ کر جلا دیا گیا کہ عسکریت پسند ان کی آڑ لیتے ہیں۔ اسی طرح دیہات کے دیہات بے دخل کر کے لوگوں کو فوجی کیمپوں کے اطراف منتقل ہونے پر مجبور کیا جاتا رہا تاکہ ان پر نظر رکھی جا سکے۔
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ عسکری سطح پر ناکامی کے بعد ریاست تمام تر عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر غریب عوام اور ان کے صدیوں پر محیط ذرائعِ معاش کو نشانہ بنا رہی ہے۔