بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6324ویں روز بھی جاری رہا۔
25 دسمبر 2025 کو کلی قمبرانی، کوئٹہ سے مبینہ طور پر جبری لاپتہ کیے گئے بیبرگ قمبرانی کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے بیبرگ قمبرانی کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ قاضی محمد عمر نیچاری اور محمد سدیس لانگو کے کیسز لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کمیشن اور صوبائی حکومت کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قاضی محمد عمر نیچاری کو 29 اور 30 جولائی کی درمیانی شب تقریباً پونے تین بجے کلی نیو نیچاری، سمنگلی روڈ، نزد سوئی گیس آفس، کوئٹہ سے سکیورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر جبری لاپتہ کر دیا۔
اسی طرح محمد سدیس لانگو کو 19 اور 20 مئی کی درمیانی شب تقریباً ساڑھے تین بجے محلہ لانگو آباد، مدرسہ روڈ، کلی اسماعیل، کوئٹہ سے ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بیبرگ قمبرانی، قاضی محمد عمر نیچاری، محمد سدیس لانگو سمیت تمام لاپتہ افراد کو باحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں اپنے دفاع کا قانونی حق حاصل ہو اور ان کے اہلِ خانہ کو اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات مل سکے۔