بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ شروع کی ہے جبکہ خضدار میں اے ٹی ایف پہ حملے میں ایس ایچ او سمیت دو اہلکار زخمی ہوگئے ۔
خاران شہر کے قریب باب خاران کے مقام پر مسلح افراد نے شاہراہ پر چیک پوائنٹس قائم کرکے آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی کا عمل جاری رکھا۔ مذکورہ شاہراہ خاران کو نوشکی و کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں کو ملاتی ہے۔
خاران میں رواں ہفتے اس سے قبل ساراوان، نوروز قلات اور زاروزئی کے مقامات کو مسلح افراد کی بھاری تعداد نے کنٹرول میں لیا تھا جو دو روز تک جاری رہا۔
اس دوران پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں بھی ہوئی تھی۔
دوسری جانب ضلع خضدار کے علاقے کرخ میں نامعلوم مسلح افراد نے انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) کی ایک ٹیم پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت دو اہلکار زخمی ہو گئے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق واقعہ گزشتہ شب پیش آیا، جس کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھی نقصان پہنچا، اور جائے وقوعہ سے خون کے نشانات سمیت زخمی ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد اپنے زخمی ساتھیوں کو ساتھ لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔