کوئٹہ : بلوچ لاپتہ افرادلواحقین کااحتجاج 5096 دنوں سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5096 دن ہوگئے۔

کراچی لیاری سے سیاسی سماجی کارکنان عدیل بلوچ، نورشاہ بلوچ، کامریڈ عاصم بلوچ اور ریحان بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ مئی کی شروعات کراچی کے قدیم شہر لیاری میں فلمی انداز سے ہوا گولہ باری دھماکے فائرنگ سرکار ایجنسیوں لیاری گینگ وار کے درمیان اس طے شدہ ڈرامے میں ایک بار پھر جبری اغوا اور عام بلوچ مارا گیا۔ اور سیاسی خونی رنگ رنگیوں نے لیاری کے قدیم بلوچ آبادی کے غریب عوام کو کچل ڈالا یہ سب کچھ مار داڑ قتل غارت لیاری عوام کے لئے نئی باتیں نہیں۔ خفیہ ایجنسیوں نے بے روزگار بلوچوں میں سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچوں میں منشیات کو عام کر کے انہیں چھوٹے موٹے چوری ڈکیتیوں پر لگا دیا کن کن ناموں سے بلوچوں کے لہو کو بہاتے رہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ قوم کے ہستیوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور اس پر امن جدوجہد کو ہم تک پہنچایا اب ہماری آنے والی نسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان شہدا کے لہو کو خشک نہ ہونے دیں۔ جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے بہائے گئے ہیں۔

بولان کے دامن پر ان شہیدوں کے لہو جو بہہ رہے ہیں جو تر و تازہ ہیں خوشبو کی بو آرہی ہے مرگاپ کے مقام پر آج بھی شہدا کے لہو اپنے وجودگی کی گواہی دے رہے ہیں ۔ شیراز کے لہو ابھی تک خشک نہیں ہوئے۔ شہدائے پنجگور کے لہو کی بو آج بھی تر و تازہ ہے ڈیرہ بگٹی میں وہ اجتماعی قبریں ہماری ضمیر کو جنجھوڑ رہی ہیں شہیدوں کی روحیں ہمیں آواز دے رہی ہیں نیو کاہان کی شہدائے قبرستان میں قربان ہونے والے شہدا کی فکر اور فلسفہ حق اور سچائی کی گیت گارہے ہیں خضدار سے ملنے والے مسخ شدہ لاشیں نئی صبح کے آنح کی خبر سے رہیں ہیں شال کے بازار میں شہید صباء کی پاک لہو ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کر رہی ہیں وہ لہو جو گمنامی کی نظر ہوگئے ان کو بھی رائیگاں جانے نہ دینے کے لئے پوری قوم کو میدان میں اترنا ہوگا اتنی لہو بہانے کے باوجود ہم پھر بھی بیگانگی کی بستر کا مہمان بنیں گے تو ہماری آنے والی نسل ہمارے قبروں پر لعنت بھیجیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment